امریکی کارروائی کے نتیجے میں وینزویلا میں 32 کیوبن اہلکار ہلاک ہوئے: ہوانا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیوبا حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وینزویلا پر امریکہ کی کارروائی میں ہمارے 32 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
کیوبا نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اپنے شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔
ہوانا حکومت کے مطابق اس آپریشن میں مجموعی طور پر 32 کیوبن شہری جان سے گئے، جن کا تعلق کیوبا کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس اداروں سے تھا اور یہ تمام افراد وینزویلا میں سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے۔
کیوبا کی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جاں بحق افراد کی یاد میں 5 اور 6 جنوری کو ملک بھر میں سوگ منایا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تدفین اور آخری رسومات سے متعلق تفصیلات بعد ازاں جاری کی جائیں گی، جب کہ قومی سطح پر پرچم سرنگوں رکھنے اور سرکاری سرگرمیوں کو محدود کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ہوانا نے واضح کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے کیوبن شہری دراصل سیکیورٹی اہلکار تھے، جو وینزویلا کی حکومت کی درخواست پر وہاں تعینات ایک فوجی مشن کا حصہ تھے۔
کیوبا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی کارروائی میں کیوبا کے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے، جسے ہوانا نے ایک سنگین اور تشویشناک واقعہ قرار دیا ہے۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق کیوبا اور وینزویلا کے درمیان قریبی سیاسی اور دفاعی تعلقات قائم ہیں اور کیوبا طویل عرصے سے وینزویلا میں مختلف سیکیورٹی اور تربیتی سرگرمیوں میں تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں کیوبن اہلکاروں کی موجودگی کو دونوں ممالک کے باہمی معاہدوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو نے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ امریکی کمانڈوز کی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو کی سیکیورٹی ٹیم کے بیشتر ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔
انہوں نے ہلاکتوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا، تاہم اس کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے سنگین سیاسی اور سفارتی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا میں کی کارروائی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک