data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیوبا حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وینزویلا پر امریکہ کی کارروائی میں ہمارے 32 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

کیوبا نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اپنے شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔

ہوانا حکومت کے مطابق اس آپریشن میں مجموعی طور پر 32 کیوبن شہری جان سے گئے، جن کا تعلق کیوبا کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس اداروں سے تھا اور یہ تمام افراد وینزویلا میں سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے۔

کیوبا کی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جاں بحق افراد کی یاد میں 5 اور 6 جنوری کو ملک بھر میں سوگ منایا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تدفین اور آخری رسومات سے متعلق تفصیلات بعد ازاں جاری کی جائیں گی، جب کہ قومی سطح پر پرچم سرنگوں رکھنے اور سرکاری سرگرمیوں کو محدود کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہوانا نے واضح کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے کیوبن شہری دراصل سیکیورٹی اہلکار تھے، جو وینزویلا کی حکومت کی درخواست پر وہاں تعینات ایک فوجی مشن کا حصہ تھے۔

کیوبا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی کارروائی میں کیوبا کے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے، جسے ہوانا نے ایک سنگین اور تشویشناک واقعہ قرار دیا ہے۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق کیوبا اور وینزویلا کے درمیان قریبی سیاسی اور دفاعی تعلقات قائم ہیں اور کیوبا طویل عرصے سے وینزویلا میں مختلف سیکیورٹی اور تربیتی سرگرمیوں میں تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں کیوبن اہلکاروں کی موجودگی کو دونوں ممالک کے باہمی معاہدوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو نے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ امریکی کمانڈوز کی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو کی سیکیورٹی ٹیم کے بیشتر ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے ہلاکتوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا، تاہم اس کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے سنگین سیاسی اور سفارتی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا میں کی کارروائی

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے