لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
تحریک تحفظ ناموس رسالت کے سیکریٹری جنرل حافظ احتشام احمد نے لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کر دی ہے۔
شکایت میں درج کیا گیا ہے کہ ججز جسٹس صداقت علی خان، جسٹس محمد وحید خان، جسٹس جواد حسن اور جسٹس چوہدری سلطان محمود نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مزید 6 الیکشن ٹربیونلز تشکیل دیدیے
درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ چاروں ججز نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی، اس لیے انہیں عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
مزید برآں، درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ ججز نے توہین مذہب کے مرتکب ملزمان کے مقدمات سن کر ان کی سزائیں کالعدم قرار دی ہیں، جس پر مناسب کارروائی کی جائے۔
مزید پڑھیں: سیشن ججز کے اختیارات کا معاملہ، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کر دیا
سپریم جوڈیشل کونسل اب شکایت کی جانچ پڑتال کرے گی اور آئندہ سماعت میں کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس جواد حسن جسٹس چوہدری سلطان محمود جسٹس صداقت علی خان جسٹس محمد وحید خان سپریم جوڈیشل کونسل لاہور ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس جواد حسن جسٹس چوہدری سلطان محمود جسٹس صداقت علی خان سپریم جوڈیشل کونسل لاہور ہائیکورٹ سپریم جوڈیشل کونسل لاہور ہائیکورٹ
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔