پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا پہلا دستہ سری لنکا پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے سلسلے میں قومی ٹیم کی کولمبو آمد کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے چار کھلاڑیوں پر مشتمل پہلا گروپ کولمبو پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کولمبو پہنچنے والے پہلے گروپ میں شاداب خان، رانا فہیم اشرف، وسیم جونئیر اور سلمان مرزا شامل ہیں۔
پاکستان/سری لنکا ٹی ٹوئنٹی سیریز
قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کا چار کھلاڑیوں پر مشتمل پہلا گروپ کولمبو پہنچ گیا
کولمبو پہنچنے والے پہلے گروپ میں شاداب خان ، رانا فہیم اشرف ، وسیم جونئیر اور سلمان مرزا شامل
ہیڈ کوچ مائیک ہیسن ، باؤلنگ کوچ ایشلے نوفکی، فیلڈنگ کوچ اور سپورٹ سٹاف کے… pic.
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) January 4, 2026
اس کے علاوہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، باؤلنگ کوچ ایشلے نوفکی، فیلڈنگ کوچ اور سپورٹ اسٹاف کے دیگر ارکان بھی اسی گروپ کے ہمراہ کولمبو پہنچے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق قومی اسکواڈ کے دیگر کھلاڑی اور سپورٹ اسٹاف کے باقی ارکان 5 جنوری کی سہ پہر لاہور سے کولمبو کے لیے روانہ ہوں گے۔
ٹی ٹوئنٹی سیریز کی تیاریوں کے لیے قومی ٹیم کولمبو میں بھرپور پریکٹس سیشنز میں حصہ لے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔