بین الاقوامی برادری بھارت کو کشمیر میں جبر سے روکے، وزیر اعظم کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 5 جنوری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا۔
کشمیر کے یومِ حقِ خود ارادیت کے موقع پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزاد اور غیرجانبدار رائے شماری کے ذریعے ہونا تھا، تاہم بھارت کے غیرقانونی قبضے کے باعث یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہو سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ آٹھ دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم برداشت کر رہے ہیں، لیکن جبر اور تشدد کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کرے۔
واضح رہے کہ آج پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری یومِ حقِ خود ارادیت منا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔