Islam Times:
2026-06-02@23:49:58 GMT

خود مختاری کا جرم، وینزویلا پر امریکی جارحیت

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

خود مختاری کا جرم، وینزویلا پر امریکی جارحیت

اسلام ٹائمز: وینزویلا نہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، نہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور نہ ہی وہ کسی ملک پر جارحیت کا خواہاں ہے۔ اس کے باوجود اس کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا، کیونکہ اصل مسئلہ جمہوریت یا انسانی حقوق نہیں بلکہ وسائل پر قبضہ اور عالمی بالادستی کا تحفظ ہے۔ یوں یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جو قوم یا قیادت امریکی مفادات کے تابع رہنے سے انکار کرے، وہ امریکا کے نزدیک ناقابل معافی جرم کی مرتکب ٹھہرتی ہے اور وینزویلا اسی جرم کی سزا بھگت رہا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر محمد کاظم سلیم 
kazimsaleem@yahoo.

com 

جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے خوشنما نعروں کے پیچھے چھپا ہوا امریکا کا چہرہ اب پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کو نہ دہشت گردی سے کوئی حقیقی مسئلہ ہے اور نہ ہی آمریت یا غیر جمہوری رویّوں سے۔ اس کی اصل دشمنی قوموں کی آزادی، خود مختاری اور اپنے وسائل پر اختیار سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر وہ رہنماء، تحریک یا نظام جو قومی خود مختاری کی بات کرتا ہے، بالآخر امریکا کے نشانے پر آجاتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دنیا کے بیشتر ڈکٹیٹرز اور کرپٹ حکمران امریکا کی پشت پناہی سے ہی اقتدار میں رہے ہیں۔ ایسے ممالک جہاں عوام نے آج تک الیکشن کے بکسے تک نہیں دیکھے، وہاں بھی امریکا کھلے عام حمایت کرتا رہا ہے۔ یہ حقیقت صاف بتاتی ہے کہ مسئلہ جمہوریت یا انسانی حقوق کا نہیں، بلکہ صرف خود مختاری اور وسائل پر کنٹرول کا ہے۔ یہی پالیسی وینزویلا کے معاملے میں بھی پوری طرح عیاں ہے۔

وینزویلا کے موجودہ صدر نکولس مادورو اسی تناظر میں سمجھے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مرحوم صدر ہوگو شاویز کی خود مختار اور عوام دوست پالیسیوں کو پوری استقامت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اس پر مستزاد یہ کہ مادورو اس وقت امریکا اور مغربی طاقتوں کے لیے مزید ناقابل برداشت ہوگئے، جب انہوں نے کھل کر فلسطین کے مظلوم بچوں اور عورتوں کے قتل عام کے خلاف آواز بلند کی۔ یہاں پس منظر کے طور پر مرحوم صدر ہوگو شاویز کا ذکر ناگزیر ہے۔ شاویز کا اصل جرم یہ تھا کہ انہوں نے 2006ء کے صدارتی انتخابات میں عوامی تائید سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد وینزویلا کے وسائل، خصوصاً تیل، پر قائم امریکی اجارہ داری کو ختم کر دیا۔ 2007ء میں تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے کر انہوں نے دہائیوں سے جاری امریکی بالادستی کا خاتمہ کیا اور عوام کو ان کے وسائل کا حقیقی مالک بنایا۔ یہی اقدام امریکا اور مغرب کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوا۔

یوں امریکا نے اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کے ذریعے وینزویلا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔ تاہم، وینزویلا کی عوام اور قیادت نے تمام دباؤ اور مشکلات کو مسترد کرتے ہوئے قومی خود مختاری کا بھرپور دفاع کیا اور کسی بھی قسم کے دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا۔ ان پابندیوں کی ناکامی کے بعد امریکا نے اپنی فوجی برتری کا استعمال کرتے ہوئے ایک خود مختار ملک کے صدر کو اس کے دارالحکومت سے اغوا کیا۔ اس بربریت کے ذریعے امریکا نے ایک بار پھر نام نہاد عالمی برادری، بین الاقوامی قوانین اور ان کی نگہبانی کے دعوے دار اداروں کو ان کی اصل حیثیت یاد دلا دی۔ یوں دنیا کو یہ پیغام دے دیا گیا کہ عالمی نظام میں قانون، انصاف اور اصول نہیں بلکہ صرف طاقت کی زبان ہی کارفرما ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور مغرب کے نزدیک جمہوریت، انسانی حقوق اور دہشت گردی جیسے تصورات مستقل نہیں بلکہ مفادات کے تابع ہیں۔ اسی لیے کوئی شخص یا گروہ ایک دور میں ہیرو اور اگلے ہی لمحے دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔

اسامہ بن لادن روس کے خلاف امریکی مفادات کا محافظ تھا، مگر مصلحت بدلی تو وہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ٹھہرا۔ صدام حسین پہلے خطے کا ہیرو بنا کر استعمال کیا گیا، پھر اسی کو دہشت گرد قرار دے کر عراق تباہ کر دیا گیا۔ یہی دوہرا معیار آج بھی مختلف ناموں اور چہروں کے ساتھ جاری ہے۔ وینزویلا نہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، نہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور نہ ہی وہ کسی ملک پر جارحیت کا خواہاں ہے۔ اس کے باوجود اس کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا، کیونکہ اصل مسئلہ جمہوریت یا انسانی حقوق نہیں بلکہ وسائل پر قبضہ اور عالمی بالادستی کا تحفظ ہے۔ یوں یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جو قوم یا قیادت امریکی مفادات کے تابع رہنے سے انکار کرے، وہ امریکا کے نزدیک ناقابل معافی جرم کی مرتکب ٹھہرتی ہے اور وینزویلا اسی جرم کی سزا بھگت رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خود مختاری نہیں بلکہ انہوں نے پوری طرح جرم کی کے لیے

پڑھیں:

شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔

کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔

دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔

پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔

شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان