Islam Times:
2026-07-24@02:21:07 GMT

خود مختاری کا جرم، وینزویلا پر امریکی جارحیت

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

خود مختاری کا جرم، وینزویلا پر امریکی جارحیت

اسلام ٹائمز: وینزویلا نہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، نہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور نہ ہی وہ کسی ملک پر جارحیت کا خواہاں ہے۔ اس کے باوجود اس کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا، کیونکہ اصل مسئلہ جمہوریت یا انسانی حقوق نہیں بلکہ وسائل پر قبضہ اور عالمی بالادستی کا تحفظ ہے۔ یوں یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جو قوم یا قیادت امریکی مفادات کے تابع رہنے سے انکار کرے، وہ امریکا کے نزدیک ناقابل معافی جرم کی مرتکب ٹھہرتی ہے اور وینزویلا اسی جرم کی سزا بھگت رہا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر محمد کاظم سلیم 
kazimsaleem@yahoo.

com 

جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے خوشنما نعروں کے پیچھے چھپا ہوا امریکا کا چہرہ اب پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کو نہ دہشت گردی سے کوئی حقیقی مسئلہ ہے اور نہ ہی آمریت یا غیر جمہوری رویّوں سے۔ اس کی اصل دشمنی قوموں کی آزادی، خود مختاری اور اپنے وسائل پر اختیار سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر وہ رہنماء، تحریک یا نظام جو قومی خود مختاری کی بات کرتا ہے، بالآخر امریکا کے نشانے پر آجاتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دنیا کے بیشتر ڈکٹیٹرز اور کرپٹ حکمران امریکا کی پشت پناہی سے ہی اقتدار میں رہے ہیں۔ ایسے ممالک جہاں عوام نے آج تک الیکشن کے بکسے تک نہیں دیکھے، وہاں بھی امریکا کھلے عام حمایت کرتا رہا ہے۔ یہ حقیقت صاف بتاتی ہے کہ مسئلہ جمہوریت یا انسانی حقوق کا نہیں، بلکہ صرف خود مختاری اور وسائل پر کنٹرول کا ہے۔ یہی پالیسی وینزویلا کے معاملے میں بھی پوری طرح عیاں ہے۔

وینزویلا کے موجودہ صدر نکولس مادورو اسی تناظر میں سمجھے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مرحوم صدر ہوگو شاویز کی خود مختار اور عوام دوست پالیسیوں کو پوری استقامت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اس پر مستزاد یہ کہ مادورو اس وقت امریکا اور مغربی طاقتوں کے لیے مزید ناقابل برداشت ہوگئے، جب انہوں نے کھل کر فلسطین کے مظلوم بچوں اور عورتوں کے قتل عام کے خلاف آواز بلند کی۔ یہاں پس منظر کے طور پر مرحوم صدر ہوگو شاویز کا ذکر ناگزیر ہے۔ شاویز کا اصل جرم یہ تھا کہ انہوں نے 2006ء کے صدارتی انتخابات میں عوامی تائید سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد وینزویلا کے وسائل، خصوصاً تیل، پر قائم امریکی اجارہ داری کو ختم کر دیا۔ 2007ء میں تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے کر انہوں نے دہائیوں سے جاری امریکی بالادستی کا خاتمہ کیا اور عوام کو ان کے وسائل کا حقیقی مالک بنایا۔ یہی اقدام امریکا اور مغرب کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوا۔

یوں امریکا نے اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کے ذریعے وینزویلا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔ تاہم، وینزویلا کی عوام اور قیادت نے تمام دباؤ اور مشکلات کو مسترد کرتے ہوئے قومی خود مختاری کا بھرپور دفاع کیا اور کسی بھی قسم کے دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا۔ ان پابندیوں کی ناکامی کے بعد امریکا نے اپنی فوجی برتری کا استعمال کرتے ہوئے ایک خود مختار ملک کے صدر کو اس کے دارالحکومت سے اغوا کیا۔ اس بربریت کے ذریعے امریکا نے ایک بار پھر نام نہاد عالمی برادری، بین الاقوامی قوانین اور ان کی نگہبانی کے دعوے دار اداروں کو ان کی اصل حیثیت یاد دلا دی۔ یوں دنیا کو یہ پیغام دے دیا گیا کہ عالمی نظام میں قانون، انصاف اور اصول نہیں بلکہ صرف طاقت کی زبان ہی کارفرما ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور مغرب کے نزدیک جمہوریت، انسانی حقوق اور دہشت گردی جیسے تصورات مستقل نہیں بلکہ مفادات کے تابع ہیں۔ اسی لیے کوئی شخص یا گروہ ایک دور میں ہیرو اور اگلے ہی لمحے دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔

اسامہ بن لادن روس کے خلاف امریکی مفادات کا محافظ تھا، مگر مصلحت بدلی تو وہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ٹھہرا۔ صدام حسین پہلے خطے کا ہیرو بنا کر استعمال کیا گیا، پھر اسی کو دہشت گرد قرار دے کر عراق تباہ کر دیا گیا۔ یہی دوہرا معیار آج بھی مختلف ناموں اور چہروں کے ساتھ جاری ہے۔ وینزویلا نہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، نہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور نہ ہی وہ کسی ملک پر جارحیت کا خواہاں ہے۔ اس کے باوجود اس کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا، کیونکہ اصل مسئلہ جمہوریت یا انسانی حقوق نہیں بلکہ وسائل پر قبضہ اور عالمی بالادستی کا تحفظ ہے۔ یوں یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جو قوم یا قیادت امریکی مفادات کے تابع رہنے سے انکار کرے، وہ امریکا کے نزدیک ناقابل معافی جرم کی مرتکب ٹھہرتی ہے اور وینزویلا اسی جرم کی سزا بھگت رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خود مختاری نہیں بلکہ انہوں نے پوری طرح جرم کی کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران