Jasarat News:
2026-07-24@03:29:28 GMT

چین میں دنیا کی طویل ترین ایکسپریس وے سرنگ کا افتتاح

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

چین میں دنیا کی طویل ترین ایکسپریس وے سرنگ کا افتتاح

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چین نے شمال مغربی علاقے شن جیانگ میں دنیا کی طویل ترین ایکسپریس وے سرنگ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے، جو تیان شان شینگلِی کے نام سے جانے جاتی ہے۔ یہ منفرد انفراسٹرکچر منصوبہ نہ صرف ملکی ٹرانسپورٹیشن کے لیے ایک سنگِ میل ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی نوعیت کا سب سے بڑا شاہکار تصور کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرنگ کی کل لمبائی تقریباً 22.

13 کلومیٹر ہے اور یہ براہِ راست پہاڑی سلسلے کے نیچے سے گزرتی ہے۔ منصوبے میں دو علیحدہ سرنگیں شامل ہیں، ہر ایک میں دو لینیں موجود ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی رفتار تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل تیان شان کے پہاڑی راستے طے کرنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے تھے، لیکن اب موٹر گاڑی صرف 20 منٹ میں اس راستے کو عبور کر سکتی ہے، جس سے وقت اور توانائی کی بڑی بچت ممکن ہوئی ہے۔

یہ شاندار سرنگ ارومکی یولی ایکسپریس وے کا حصہ ہے، جو شمالی اور جنوبی شن جیانگ کے شہروں کو براہِ راست جوڑتی ہے اور عوامی و تجارتی نقل و حمل میں نمایاں سہولت فراہم کرتی ہے۔

منصوبے کی تکمیل نے نہ صرف چین کے اندرونی رابطوں کو مضبوط کیا ہے بلکہ عالمی انجینئرنگ کے شعبے میں بھی اس کا نام روشن کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ جدید ٹیکنالوجی اور پہاڑی علاقوں میں تعمیراتی مہارت کی اعلیٰ مثال ہے، اور مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی بڑے پہاڑی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے نمونہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تیان شان شینگلِی سرنگ کے افتتاح سے چین میں شہری اور تجارتی نقل و حمل کی نئی راہیں کھل گئی ہیں، جو معاشی سرگرمیوں اور خطے کی ترقی میں ایک نیا باب رقم کریں گی۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین