چین میں دنیا کی طویل ترین ایکسپریس وے سرنگ کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین نے شمال مغربی علاقے شن جیانگ میں دنیا کی طویل ترین ایکسپریس وے سرنگ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے، جو تیان شان شینگلِی کے نام سے جانے جاتی ہے۔ یہ منفرد انفراسٹرکچر منصوبہ نہ صرف ملکی ٹرانسپورٹیشن کے لیے ایک سنگِ میل ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی نوعیت کا سب سے بڑا شاہکار تصور کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرنگ کی کل لمبائی تقریباً 22.
اس سے قبل تیان شان کے پہاڑی راستے طے کرنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے تھے، لیکن اب موٹر گاڑی صرف 20 منٹ میں اس راستے کو عبور کر سکتی ہے، جس سے وقت اور توانائی کی بڑی بچت ممکن ہوئی ہے۔
یہ شاندار سرنگ ارومکی یولی ایکسپریس وے کا حصہ ہے، جو شمالی اور جنوبی شن جیانگ کے شہروں کو براہِ راست جوڑتی ہے اور عوامی و تجارتی نقل و حمل میں نمایاں سہولت فراہم کرتی ہے۔
منصوبے کی تکمیل نے نہ صرف چین کے اندرونی رابطوں کو مضبوط کیا ہے بلکہ عالمی انجینئرنگ کے شعبے میں بھی اس کا نام روشن کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ جدید ٹیکنالوجی اور پہاڑی علاقوں میں تعمیراتی مہارت کی اعلیٰ مثال ہے، اور مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی بڑے پہاڑی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے نمونہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تیان شان شینگلِی سرنگ کے افتتاح سے چین میں شہری اور تجارتی نقل و حمل کی نئی راہیں کھل گئی ہیں، جو معاشی سرگرمیوں اور خطے کی ترقی میں ایک نیا باب رقم کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔