اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)صدر مملکت آصف علی زرداری نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا۔جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن صرف بامعنی مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔

 ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری پیغام کے مطابق یوم حق خود ارادیت پر اپنےپیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ 5 جنوری کو پاکستان کے عوام، جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مل کر یومِ حقِ خود ارادیت مناتے ہیں۔ یہ دن 1949 میں اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی منظوری کی یاد دلاتا ہے جس میں جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کی توثیق کی گئی اور جموں و کشمیرکے عوام کو آزاد اور غیر جانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم کیا گیا۔

26 نومبر احتجاج، انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

صدر مملکت نے کہا کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا۔ وقت گزرنے سے نہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے مطالبے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کمزور ہوئی ہے۔ اس بنیادی حق سے مسلسل انکار اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہے۔بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں زمینی صورتحال بدستور نہایت تشویشناک ہے۔سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر وسیع پابندیاں، طویل نظر بندیاں اور جابرانہ قوانین کے استعمال نے خوف کی فضا قائم کردی ہے۔ عام شہری تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں جبکہ خاندان بے گھر اور لوگ روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہے : وزیر اعظم

صدر مملکت نے کہا کہ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں ایک اور سنگین چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہیں، جن کے کشمیری عوام کی زندگیوں اور علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ایک خطرناک کوشش کی عکاسی کرتی ہے جس سے لاکھوں لوگوں کے روزگار، غذائی تحفظ اور خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ تنازعہ جموں و کشمیر ،کشمیری عوام کی خواہشات سے جڑا ہوا ہے اور اسے طاقت یا یکطرفہ اقدامات کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔ جنوبی ایشیا ءمیں پائیدار امن صرف بامعنی مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔

میرے خلاف سزا لکھی گئی ہے اس کیس میں نہیں کسی اور کیس میں دیدیں گے: علیمہ خان

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس موقع پر میں، عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ کےلئے قابلِ اعتماد اقدامات کی بھی اشد ضرورت ہے۔پاکستان بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی مسلسل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ ہم ان کے وقار، انصاف اور اپنی مرضی کے مستقبل کے حصول کی منصفانہ اور پرامن جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں داخل ہونیوالا نوجوان1گھنٹے تک کیا کرتا رہا ؟ ویڈیو بھی سامنے آ گئی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی کشمیری عوام خود ارادیت صدر مملکت نے کہا کہ کے ذریعے عوام کی کے عوام

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار