76 برس بعد بھی وعدہ وفا نہ ہوا، کشمیری آج بھی حقِ خودارادیت کے منتظر
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
5 جنوری 1949 تاریخ کے اُن صفحات میں درج ہے جو وعدوں، امیدوں اور ادھورے انصاف کی داستان سناتے ہیں۔ اسی روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو یہ حق دیا گیا کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔
قرارداد میں یہ بھی طے پایا تھا کہ اقوامِ متحدہ ایک خصوصی کمیشن قائم کرے گی، جو خطے میں فوجی انخلا کے مراحل طے کرے گا اور اس کے بعد رائے شماری کے انعقاد کے لیے ایک آزاد اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا۔
مگر تاریخ کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ 76 برس گزر جانے کے باوجود یہ وعدے آج بھی کاغذوں تک محدود ہیں۔ کشمیری عوام اب تک اپنے اس بنیادی حق سے محروم ہیں، جسے عالمی برادری نے خود تسلیم کیا تھا۔
اسی تناظر میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پاسبانِ حریت جموں کشمیر کے زیرِ اہتمام ایک مشعل بردار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں نوجوانوں سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شرکا نے شہر کی مرکزی شاہراہ پر مارچ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قراردادوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے۔
ریلی کے دوران شرکا کے ہاتھوں میں مشعلیں اس بات کی علامت تھیں کہ کشمیری عوام کی جدوجہد ابھی زندہ ہے۔ یہ مشعلیں اُن امیدوں کی ترجمان تھیں جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دلوں میں روشن ہیں، مگر عملی انصاف کی منتظر ہیں۔
پاسبانِ حریت جموں کشمیر کے چیئرمین عزیر احمد غزالی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ نے خود کمیشن بنانے، فوجی انخلا اور پھر رائے شماری کرانے کا وعدہ کیا تھا، مگر یہ تمام نکات آج تک عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر 1949 کی قرارداد پر عملدرآمد ہو جاتا تو آج لاکھوں کشمیری دربدر نہ ہوتے اور نہ ہی ایک پوری نسل جبر، خوف اور غیر یقینی حالات میں زندگی گزار رہی ہوتی۔
عزیر احمد غزالی نے کہا کہ کشمیری عوام آج بھی اس قرارداد پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ وہ آج بھی سرحد کے آرپار اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے ترس رہے ہیں اور آزادی کی ایک روشن صبح کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مشعل بردار ریلی اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد نہ کمزور ہوئی ہے اور نہ ہی ختم ہوئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام ہر فورم پر دنیا کو یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ پانچ جنوری 1949 کی قرارداد آج بھی انصاف کی منتظر ہے، اور جب تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوتا، جدوجہد کا یہ سفر جاری رہے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کشمیری عوام کہ کشمیری کشمیر کے آج بھی
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔