پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کا پہلا خریدار کون ہوگا؟ نام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی دو نئی ٹیموں کے لیے سب سے پہلے بولی لگانے والے خریدار کا نام سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق انویریکس سولر انرجی کو باضابطہ طور پر پاکستان سپر لیگ ٹیمز آکشن کے لیے اہل قرار دیے گئے دس بولی دہندگان میں پہلی پوزیشن حاصل ہوگئی ہے۔
And we're off! ????@InverexSolar confirmed as Qualified Bidder #1 in the HBL PSL Teams Auction.
یہ اعزاز انویریکس کے وژن، اعتماد اور اسٹریٹجک سوچ کا واضح ثبوت ہے۔ اہل فہرست میں سب سے پہلے شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ کمپنی مستقبل کے منصوبوں کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
جدت، عزم اور مضبوط قیادت کے ساتھ انویریکس سولر انرجی کھیل اور توانائی کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیںپی ایس ایل میں 2 نئی فرنچائزز کی شمولیت، ٹیموں کی قیمت کتنی ہوگی؟
فیب فور میں شامل کون سے بلے باز پی ایس ایل میں جلوہ گر ہوں گے؟
انویریکس سولر انرجی کے سی ای او محمد ذاکر علی کا کہنا ہے کہ ہم کرکٹ اور شائقین کے اوپر یقین رکھتے ہیں، ہمارا وژن بہت سادہ ہے، پاکستان کو انرجائز کرنا ہے، فیلڈ پہ بھی اور فیلڈ کے باہر بھی۔
انہوں نے کہ اس وطن کی ترقی کے لیے ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں جسے ہم فخر سے پاکستان کہتے ہیں۔
A strong start to the next chapter ⚡
Inverex Solar Energy has been confirmed as the 1️⃣st of 1️⃣0️⃣ qualified bidders for the HBL PSL Teams Auction.#HBLPSL | #NewEra pic.twitter.com/uIETBlwwXc
واضح رہے کہ پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے لیے نیلامی کی تقریب 8 جنوری کو اسلام آباد میں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔