مصنوعی ذہانت کی بے قابو پیش رفت عالمی خطرہ بن سکتی ہے، ماہرین کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصنوعی ذہانت کی برق رفتار ترقی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اے آئی انسانوں کی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتی ہے، جبکہ اس کے تحفظ اور کنٹرول کے لیے درکار سائنسی فہم اور نظام اس رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے، اگر بروقت اور سنجیدہ حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال نہ صرف معاشرتی اور معاشی ڈھانچے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اے آئی اب محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں رہی بلکہ انسانی مستقبل سے جڑا ایک حساس معاملہ بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جس تیزی سے جدید اے آئی نظام ترقی کر رہے ہیں، انسان شاید ان کے ممکنہ خطرات کو سمجھنے اور مؤثر انداز میں قابو میں رکھنے کے لیے درکار وقت حاصل نہ کر سکے۔
تحقیق، تجزیے اور منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں مشینیں نہ صرف تیز رفتار بلکہ کئی معاملات میں انسانوں سے زیادہ مؤثر اور کم خرچ ثابت ہو رہی ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ آئندہ برسوں میں معاشی طور پر اہم ذمہ داریاں بڑی حد تک مشینوں کے سپرد ہو جائیں گی۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ اس طاقت کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے والے نظاموں کی سست رفتار ترقی ہے۔
حکومتیں اور ادارے اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی خودبخود درست فیصلے کرے گی، حالانکہ حقیقت میں ان نظاموں کی مکمل جانچ اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے مضبوط سائنسی بنیاد ابھی ناکافی ہے۔ معاشی دباؤ کے باعث نئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے استعمال میں لایا جا رہا ہے، جبکہ حفاظتی پہلو پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
برطانیہ کی ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ انوینشن ایجنسی کے اے آئی سیفٹی ماہر ڈیوڈ ڈیلرمپل کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں زیادہ تر معاشی طور پر قیمتی کام مشینیں انسانوں سے بہتر اور کم لاگت میں انجام دینے لگیں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی نظاموں کو بلا جھجھک قابلِ اعتماد سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے نقصانات کو کنٹرول اور کم کرنے پر فوری توجہ ناگزیر ہے۔
برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ بعض شعبوں میں اے آئی ماڈلز کی کارکردگی ہر آٹھ ماہ میں دوگنی ہو رہی ہے، اور کچھ جدید نظام خود مختار طور پر پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت بھی دکھا رہے ہیں۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ بدترین منظرنامے کا امکان فوری طور پر کم ہے، تاہم احتیاط، نگرانی اور ذمہ دارانہ پالیسی سازی کے بغیر اے آئی کی تیز رفتار ترقی مستقبل میں بڑے چیلنجز کو جنم دے سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکتی ہے اے آئی کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔