شوکت خانم میموریل اسپتال کو عطیات کی کمی کا سامنا، عوام سے اہم اپیل
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کی جانب سے عوام سے ایک بار پھر ڈونیشن کی اپیل کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال عطیات میں قریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق عطیات میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شوکت خانم اسپتال کراچی کی تکمیل کا مرحلہ درپیش ہے، جسے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
شوکت خانم ہسپتال اپیل ????
بدقسمتی سے اس سال donations میں 1% کمی آئی ہے جبکہ شوکت خانم ہسپتال کراچی کو دسمبر 2026 میں مکمل کرنا ہے۔
اس لئے جتنا بھی ممکن ہو شوکت خانم ہسپتال کو ڈونیشن دیں کیونکہ یہ صدقہ جاریہ ہے
pic.
— Faisal Khan (@KaliwalYam) January 5, 2026
اپیل میں کہا گیا ہے کہ شوکت خانم اسپتال ملک میں کینسر کے مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے، جہاں بڑی تعداد میں مستحق مریضوں کا علاج عطیات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اسپتال کا مالی نظام زیادہ تر عوامی تعاون اور ڈونیشنز پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے عطیات میں معمولی کمی بھی منصوبوں کی رفتار اور علاج کی سہولیات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
شوکت خانم اسپتال کراچی منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کی تکمیل دسمبر 2026 میں متوقع ہے، تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے مسلسل مالی معاونت کی ضرورت ہے۔
اپیل میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عوام کی جانب سے دی جانے والی ہر چھوٹی بڑی رقم اسپتال کی تعمیر اور مریضوں کے علاج میں براہ راست معاون ثابت ہوتی ہے۔
اسپتال انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ڈونیشن دے کر اس فلاحی مقصد میں حصہ ڈالیں۔
مزید پڑھیں: شوکت خانم اسپتال کا فنڈ ریزنگ پروگرام روکنے پر کرکٹر شاداب خان برہم
واضح رہے کہ شوکت خانم میموریل اسپتال سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی والدہ کے نام پر بنایا ہے، جہاں مستحق مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews شوکت خانم اسپتال عطیات میں کمی عوام سے اپیل وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شوکت خانم اسپتال عطیات میں کمی عوام سے اپیل وی نیوز شوکت خانم اسپتال عطیات میں گیا ہے کہ عوام سے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔