کراچی: جعلی ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس لگی چینی کی 1800 بوریاں تحویل میں لے لی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ٹیکس چوری کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ٹو نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جعلی ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس لگی چینی سے بھرے تین ٹرک تحویل میں لے لیے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریجنل ٹیکس آفس ٹو کراچی کی جانب سے ضبط کی گئی کھیپ میں مجموعی طور پر تقریباً 1,800 بوریاں شامل ہیں، جو غیرقانونی طریقے سے مارکیٹ میں سپلائی کیے جانے کی کوشش کی جا رہی تھیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق یہ کارروائی ان لینڈ ریونیو انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کے اشتراک سے عمل میں لائی گئی، جہاں خفیہ معلومات کی بنیاد پر ٹرکوں کو روکا گیا اور جانچ پڑتال کے دوران چینی کی بوریوں پر لگے ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس جعلی ثابت ہوئے۔
ابتدائی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ اس طریقہ واردات کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یہ انفورسمنٹ کارروائی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور ٹیکس چوری کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔
ادارے کے مطابق اس نظام کا مقصد اشیائے خورونوش کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی مکمل نگرانی ہے تاکہ غیرقانونی سپلائی چین کو روکا جا سکے۔
ٹیکس حکام نے بتایا کہ ضبط کیے گئے ٹرکوں کو فوری طور پر تحویل میں لے کر آر ٹی او ٹو کراچی کے نیپا احاطے میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں مزید قانونی کارروائی اور تفصیلی تفتیش جاری ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، تاکہ آئندہ اس قسم کی ٹیکس چوری اور جعلسازی کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ ملک بھر میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی خلاف ورزی کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہ کر کاروبار کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جاتی رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹریک اینڈ ٹریس کے مطابق کے خلاف
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔