‘نک دا کوکا’ گانے پر قوال فراز خان کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
شالیمار باغ میں ہونے والی میوزک اینڈ کلچرل نائٹ کے دوران معروف قوال فراز خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ’نک دا کوکا‘ گانے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ شالیمار گارڈن لاہور کے انچارج ضمیر الحسن کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں اشتعال انگیزی پھیلانے اور امن عامہ کے خلاف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق شالیمار باغ میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیر اہتمام ’چاندنی راتوں‘ کے عنوان سے میوزک اینڈ کلچرل نائٹ منعقد کی گئی تھی جو ایک ثقافتی تقریب تھی۔ اس تقریب میں کسی بھی قسم کے سیاسی مواد یا سیاسی نعرے بازی کی اجازت نہیں تھی۔
????????#BREAKING ????????
سرکاری سرپرستی میں میوزیکل نائٹ شو پر مقدمہ درج
والڈ سٹی اتھارٹی کے زیر اہتمام شالیمار باغ میں میوزک اینڈ کلچرل نائٹ
"چاندنی راتوں" میں قوالی و میوزیکل نائٹ کا اہتمام کیا گیا
پروگرام میں قوال فراز خان و ہمنواہ نے قوالی پیش کی
شو کے دوران اڈیالہ جیل کے قیدی… pic.
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) January 4, 2026
تاہم 3 فروری کو قوالی نائٹ کے دوران فراز خان اور ان کے ساتھی قوالوں نے بغیر اجازت سیاسی نوعیت کا نغمہ گایا، جس کے بول ’جیل اڈیالہ قیدی 804‘ تھے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس گانے سے شرکاء میں جوش و اشتعال پیدا ہوا اور امن عامہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا جس کے بعد انتظامیہ نے پرفارمنس روک دی۔
قوال فراز خان نے اس سلسلے میں موقف اپنایا کہ انہوں نے اپنی پرفارمنس کے دوران ایک شخص کی دھمکی پر مجبوراً دو بول گائے اس شخص نے دھمکی دی تھی کہ قیدی نمبر 804 والا گانا گاؤ اگر گانا نہ گایا تو جب تم لوگ باہر نکلو گے تو ہم تم سے نمٹ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’نک دا کوکا‘ کا نیا ورژن: ’ملکو اور سارا الطاف کو آخر راتوں رات کیا ہوگیا؟‘
فراز خان کے مطابق پروگرام ختم ہونے کے بعد انتظامیہ کو اس واقعے سے آگاہ بھی کیا۔ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فرمائش نہ ماننے کی صورت میں ان کی یا ان کے ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہوتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ اس واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں اور بلاجواز مقدمہ خارج کروایا جائے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ سابق سینیٹر اور سیاسی رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس کیس کی ایف آئی آر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’قوال فراز خان کا یہ فعل انتہائی غیر ذمہ درانہ اور قابل مذمت ہے،اِس سے عوام میں جوش اور اشتعال پیدا ہوا‘۔ یہ ایف آئی آر کا متن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے اوپر گول کرنا اور کسے کہتے ہیں؟
۔۔”قوال فراز خان کا یہ فعل انتہائی غیر ذمہ درانہ اور قابل مذمت ہے۔ “ ۔۔۔”اِس سے عوام میں جوش اور اشتعال پیدا ہوا۔ “ ایف آئی آر کا متن۔ اَپنے اوپر گول کرنا اور کَسے کہتے ہیں ؟ https://t.co/Q4M2exOCOv
— Mustafa Nawaz Khokhar (@mustafa_nawazk) January 4, 2026
محمد عمیر نے لکھا کہ میری ابھی قوال فراز امجد خان سے بات ہوئی ہے ان کے مطابق تقریب میں موجود ایک بندے نے دھمکی دے کر ان سے یہ گانا ’نک دا کوکا‘ گوایا۔ فراز امجد کے مطابق وہ ن لیگی ہیں اور ن لیگ کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔
میری ابھی قوال فراز امجد خان سے بات ہوئی ہے انکے مطابق تقریب میں موجود ایک بندے نے دھمکی دیکر ان سے یہ گانا "نہ دا کوکا" گوایا۔ فراز امجد کے مطابق وہ ن لیگی ہیں اور ن لیگ کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ pic.twitter.com/s5RGHXFiPN
— Muhammad Umair (@MohUmair87) January 4, 2026
حیدر مجید لکھتے ہیں کہ یہ ڈر کی انتہا ہے کہ قوالی نائٹ میں قیدی نمبر 804 گانے پر قوالوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ڈر کی انتہاء ۔۔۔
قوالی نائٹ کے دوران فراز خان اور ساتھیوں نے اشتعال انگیز نغمہ قیدی نمبر 804 گایا جس سے عوام میں اشتعال پیدا ہوا۔ اور پولیس نے قوالوں پہ مقدمہ درج کر دیا۔ pic.twitter.com/ijS3R0t2m5
— Haider Majeed (@AdvHaiderMajeed) January 4, 2026
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمران خان قوال پر مقدمہ درج قوال فراز خان قیدی نمبر 804 لاہور میوزیکل نائٹ نک دا کوکا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قوال پر مقدمہ درج قوال فراز خان لاہور میوزیکل نائٹ نک دا کوکا اشتعال پیدا ہوا قوال فراز خان نک دا کوکا ایف آئی آر کے مطابق کے دوران کے خلاف گیا ہے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔