قیدی نمبر 804 گانا گانے والے قوال فراز امجد کا ویڈیو مؤقف سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور:
لاہور کے تاریخی شالامار باغ میں منعقدہ قوالی نائٹ کے دوران متنازع گانا قیدی نمبر 804 گانے والے معروف قوال فراز امجد نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔
فراز امجد کا کہنا ہے کہ وہ منتظمین کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کے مطابق ہی قوالی پیش کر رہے تھے۔
قوال فراز امجد کے مطابق محفل کے دوران ایک نامعلوم شخص سٹیج پر آ گیا جس نے بدتمیزی کی اور من پسند گانا گانے کے لیے دھمکیاں دیں یہاں تک کہ نتائج کی وارننگ بھی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں اس دباؤ کو نظرانداز کیا گیا، تاہم تمام صورتحال کی ویڈیو شواہد موجود ہیں۔
فراز امجد کا کہنا ہے کہ محفل کا ماحول خراب ہونے سے بچانے کے لیے مجبوری میں وہ گانا پیش کیا، جس پر بعد ازاں ان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔
انہوں نے ملک مخالف بغاوت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کا وطن ہے اور وہ اس کے خلاف جا ہی نہیں سکتے۔
قوال فراز امجد نے وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
ساتھ ہی انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اصل حقیقت جاننے کے لیے ان کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو ضرور دیکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قوال فراز امجد
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔