بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ہیما مالنی نے لیجنڈری اداکار آنجہانی دھرمیندر کی پہلی اہلیہ پرکاش کور اور ان کے بچوں سنی دیول اور بوبی دیول سے مبینہ اختلافات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر وضاحت پیش کردی۔

یہ بھی پڑھیں: دھرمیندر کے ساتھ فلم شعلے میں گزرے یادگار لمحات یاد کر کے امیتابھ بچن آبدیدہ

یاد رہے کہ دھرمیندر کے انتقال کے بعد ان کی دونوں اہلیاؤں، پرکاش کور اور ہیما مالنی، کی جانب سے علیحدہ علیحدہ دعائیہ تقاریب کے انعقاد نے دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات کی قیاس آرائیوں کو ایک بار پھر ہوا دی تھی۔

اس سے قبل بھارتی مصنفہ اور کالم نگار شوبھا ڈے نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ دھرمیندر کے انتقال کے بعد پہلی فیملی نے ہیما مالنی کو نظرانداز کیا۔

ان خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے ہیما مالنی نے ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہمارے گھر کا ذاتی معاملہ ہے اور ہم نے آپس میں بات کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے گھر پر اس لیے دعائیہ تقریب رکھی کیونکہ میرا حلقہ الگ ہے۔

ہیما مالنی کا کہنا تھا کہ دہلی اور متھرا میں بھی دعائیہ تقاریب منعقد کی گئیں کیونکہ وہ سیاست سے وابستہ ہیں اور متھرا ان کا حلقۂ انتخاب ہے جہاں دھرمیندر کو بے حد پسند کیا جاتا تھا انہوں نے کہا کہ میں نے جو کیا، اس سے مطمئن ہوں۔

مزید پڑھیے: دھرمیندر کا آخری پیغام، سنی دیول نے والد کی جذباتی ویڈیو شیئر کردی

انٹرویو کے دوران ہیما مالنی نے دھرمیندر کے لوناؤلا فارم ہاؤس کو میوزیم بنانے سے متعلق خبروں پر بھی بات کی اور بتایا کہ اس حوالے سے سنی دیول ایک ایسے ہی خیال پر غور کر رہے ہیں۔

اداکارہ نے خاندان میں اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں خاندانوں کے تعلقات خوشگوار ہیں اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ دھرمیندر نے سنہ 1954 میں پرکاش کور سے شادی کی تھی جن سے ان کے 4 بچے سنی دیول، بوبی دیول، وجیتا اور اجیتا ہیں۔

بعد ازاں سنہ سنہ 1980 میں انہوں نے اپنی فلم شعلے کی ساتھی اداکارہ ہیما مالنی سے دوسری شادی کی، جبکہ پہلی شادی برقرار رہی۔

مزید پڑھیں: ’پاکستان میری موسی ماں ہے‘، بالی ووڈ کے لیجنڈ دھرمیندر کا پاکستان کے لیے محبت بھرا پیغام وائرل

ہیما مالنی سے دھرمیندر کی 2 بیٹیاں ایشا دیول اور اہانا دیول ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

دھرمیندر ہیما مالنی ہیما مالنی کے خاندانی اختلافات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہیما مالنی ہیما مالنی کے خاندانی اختلافات ہیما مالنی نے دھرمیندر کے سنی دیول کہا کہ

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟