گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ نے اینٹی کرپشن کارروائیوں کے خلاف 9 جنوری کو سندھ بھر میں نجی اسکولوں اور کالجوں کی مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے.

اس حوالے سے ایسوسی ایشن کے رہنمائوں حیدر علی، شہزاد اختر، طارق شاہ، انور بھٹی، دانش الزمان، ناصر زیدی اور دیگر نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسکولوں میں اینٹی کرپشن کارروائیوں کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ سے عدالتی فیصلے پر باوقار عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انھوں نے سندھ بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو درپیش سنگین مسائل پر روشنی ڈالی اور اینٹی کرپشن کی جانب سے اسکولوں میں جاری تصدیقی کارروائیوں پر شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا۔ 

مقررین نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا بنیادی پیمانہ تعلیم ہے، لیکن بدقسمتی سے سندھ میں لاکھوں بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں، ایسے میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے محدود وسائل کے باوجود کم فیسوں میں لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا سماجی ذمہ داری کے تحت فری شپ بھی دے رہے ہیں، معزز سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے 8 دسمبر 2025 کے فیصلے کے تحت ریجنل ڈائریکٹرز کی جانب سے جمع کرائی گئی فری شپ فہرستوں کی تصدیق کے لیے اینٹی کرپشن کو ذمہ داری دی گئی، جس کے بعد اینٹی کرپشن ٹیموں نے براہِ راست اسکولوں میں جا کر معائنے شروع کر دیے۔ 

ان رہنماؤں کے مطابق یہ عمل سندھ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ 2013 کے خلاف ہے کیونکہ اس قانون کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز ہی واحد مجاز ریگولیٹری اتھارٹی ہے، لہٰذا کسی دوسرے ادارے کی اس نوعیت کی مداخلت غیر قانونی اور غیر ضروری ہے۔

مقررین نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ تعلیمی اداروں میں بڑی تعداد میں خواتین اساتذہ اور کم عمر بچے موجود ہوتے ہیں اور اینٹی کرپشن کی تفتیشی کارروائیاں خوف، ذہنی دباؤ اور اضطراب کا باعث بن رہی ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ مسلح اہلکاروں کا اسکولوں میں مخصوص انداز میں داخل ہونا تعلیمی ماحول کے لیے ہرگز موزوں نہیں جبکہ والدین کو بھی غیر ضروری سوال و جواب اور تفصیلات کے مطالبے کے باعث شدید پریشانی کا سامنا ہے، حالانکہ والدین کی جانب سے مکمل ڈیٹا اور انڈرٹیکنگ اور اسکولوں کی جانب سے فہرستیں پہلے ہی متعلقہ اداروں کو فراہم کی جا چکی ہیں۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ اس قسم کی کارروائیوں سے سندھ کے نامور تعلیمی اداروں، فلاحی تنظیموں اور دہائیوں سے خدمات انجام دینے والے پرائیویٹ اسکولز کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود تعلیم کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

مقررین نے واضح کیا کہ اگر کہیں انفرادی سطح پر کوئی خامی یا غلطی موجود ہے تو اسے پورے پرائیویٹ ایجوکیشن سیکٹر کے خلاف استعمال کرنا ناانصافی ہے۔

گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری کردار ادا کریں اور اینٹی کرپشن کو ہدایت دیں کہ وہ معزز عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے باوقار اور مؤثر طریقۂ کار اختیار کرے، جس میں تصدیقی عمل ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز کے ذریعے مکمل کیا جائے اور اسکولوں میں براہِ راست جانے سے گریز کیا جائے۔

آخر میں آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کرتے ہوئے مقررین نے بتایا کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے جاری تصدیقی عمل کو روکنے کے لیے معزز عدالت میں نئی درخواست دائر کی جائے گی۔

جبکہ 6 سے 8 جنوری تک سندھ کے تمام اضلاع میں والدین اور اسکول انتظامیہ کے مشترکہ احتجاجی اجلاس منعقد کیے جائیں گے، 8 جنوری کو سندھ بھر میں نجی تعلیمی ادارے یومِ سیاہ منائیں گے اور 9 جنوری کو سندھ بھر کے تمام پرائیویٹ اسکولز اور کالجز مکمل ہڑتال کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں اینٹی کرپشن اسکولوں میں کی جانب سے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف