حیات آباد پولیس کی کامیاب کارروائی، شہریوں کو اسلحہ کی نوک پر لوٹنے والا منظم گینگ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کینٹ ڈویژن، تھانہ حیات آباد پولیس کی کامیاب کارروائی ، خود کو حساس اداروں کے سرکاری اہلکار ظاہر کرکے علاج معالجے کی غرض سے ہسپتال آنے والے افغان شہریوں اور خواتین کو اسلحہ کی نوک پر لوٹنے والا منظم گینگ گرفتارکرلیا گیا، 19 لاکھ روپے سے زائد ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی۔
عوامی شکایات اور غیر ملکی شہریوں کی رپورٹس پر افسرانِ بالا نے واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کینٹ ڈویژن عبد اللہ احسان کی سربراہی میں ایس ڈی پی او حیات آباد سرکل محمد جنید کھرل اور ایس ایچ او تھانہ حیات آباد کامران مروت سمیت تفتیشی افسران پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی۔
ٹیم نے جدید ٹیکنیکل بنیادوں اور سائنسی خطوط پر تفتیش کے دوران ایک منظم گینگ کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا، جو خود کو حساس ادارے کے اہلکار ظاہر کر کے اسلحہ کی نوک پر علاج معالجے کی غرض سے آنے والے افغان شہریوں سمیت دیگر سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے میں ملوث تھا۔
گرفتار ملزمان میں عبد الخلیل ولد جمعہ خان سکنہ ابشار کالونی، شمس الرحمان ولد امین سکنہ تہکال پایان اور فاروق ولد محمد خان سکنہ لکی مروت حال واپڈا ٹاؤن شامل ہیں۔
ملزمان حیات آباد کے پوش علاقوں میں سادہ لوح شہریوں کو ٹارگٹ کر کے انہیں گاڑی میں بٹھاتے اور حساس اداروں کی آڑ میں لوٹ مار کرتے تھے۔
واقعات کے حوالے سے افغان شہری محمد صلح اور تواب الرحمان نے تھانہ حیات آباد میں علیحدہ علیحدہ رپورٹس درج کرائی تھیں، جن پر باقاعدہ مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔
افسرانِ بالا کی ہدایات پر ایس پی کینٹ ڈویژن عبد اللہ احسان کی نگرانی میں خصوصی ٹیم نے حیات آباد کے مختلف علاقوں میں سی سی ٹی وی فوٹیجز، تکنیکی شواہد اور دیگر معلومات کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ وسیع کیا، جس کے نتیجے میں جدید سائنسی بنیادوں پر جامع تفتیش کے بعد گینگ کو بے نقاب کر کے گرفتار کر لیا گیا۔
کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 19 لاکھ سے زائد روپے برآمد کیے گئے، جن میں 500 امریکی ڈالر، 1300 درہم، 28 ہزار افغانی کرنسی اور 16 لاکھ 10 ہزار پاکستانی روپے شامل ہیں۔
گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش حساس اداروں کے اہلکار بن کر علاج معالجے کی غرض سے آنے والے ہمسایہ ملک افغانستان کے شہریوں سے لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے، جبکہ مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حیات آباد
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔