بھارت نے یاسین ملک کی جان لینے کی کوشش تو وہ دھماکا ہوگا کہ سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ 28 جنوری کو یاسین ملک کو سزا سنانے کا خطرہ ہے ان کی جان لینے کی کوشش ہوئی تو وہ دھماکا ہوگا کہ سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
پانچ جنوری کو حق خود ارادیت کے دن کے موقع پر راولپنڈی پریس کلب کے باہر شہر کے تاجر نمائندوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں مشعال حسین ملک کا کہنا تھا کہ مودی کی پالیسیاں پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں، اگر کلبھوشن کا مقدمہ عالمی عدالت لے جایا جاسکتا ہے تو حکومت یہ مقدمہ بھی وہاں لے کر جاسکتی ہے، کشمیری حریت رہنما کے آزاد ہونے تک ہم بھارت سے کوئی ہینڈ شیک قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حریت رہنما یاسین ملک کو بچانے کے لیے نومبر سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا ہوا ہے، تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ہم نے گلی محلے میں جا کر عوام کو یاسین ملک کے حوالے سے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، نریندر مودی، اجیت دودل ، راہول گاندھی سے مخاطب ہوں کہ یہ ایشو بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے جس کی وجہ صرف مودی یے، صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اگر یہ بارود پھٹ گیا تو اسکا ذمہ دار صرف مودی ہو گا۔
مشعال ملک کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں ایشیا نیوکلیئر ٹپنگ بم بنا ہوا ہے اس کا اظہار آرمی چیف صاحب نے بھی کیا ہے،بھارت سے آوازیں آرہی ہیں کہ مودی ساری ریڈ لائنز کراس کرگیا ہے، معرکہ حق میں بھارت کو بدترین شکست ملی اسکا سارا غصہ مودی اور دودل نے یاسین ملک اور ہمارے خاندان پر اتارا ہے، نیتن یاہو اور مودی نے جتنا ظلم کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو چین اور بنگلہ دیش کا ردعمل آنا ہے اور جو آگ لگنی ہے وہ کسی سے کنٹرول نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل بھی امریکا کو بھارتی عزائم سے آگاہ کر چکے ہیں، بھارتی اپوزیشن بھی نریندر مودی پر تنقید کر رہی ہے، آر ایس ایس یہ کہنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ مودی نے ریڈ لائن عبور کی ہے، ہم مارکیٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں جائیں گے اور یاسین ملک کی رہائی کے لیے دستخطی مہم مکمل کریں گے۔
مشعال ملک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اویسی صاحب ہوش کے ناخن لیں! مقبوضہ کشمیر سے بدترحال آپ لوگوں کا اپنا ہے، اقلیتوں کے ساتھ بھارت میں جو ہو رہا ہے، وہ سب سامنے ہے، اتنی بڑھکیں نہ ماریں، حکومت کو کہتے ہیں کہ ہمیں دفتر خارجہ میں لیگل سیل چاہیئے، اقوام متحدہ میں یاسین ملک صاحب کے حوالے سے پٹیشن دائر کی ہے، عمران خان کے آگے یاسین ملک کے حوالے سے ہاتھ جوڑے تھے، پہلے اور بعد کی حکومتوں سے بھی کہا اور ابھی بھی کہہ رہے ہیں، کشمیر بنیادی مسئلہ ہے، پاکستان کی معرکہ حق کے بعد دنیا میں ایک انفولینس ہے، ہمیں کشمیر پر ایک مستقل سفیر چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یاسین ملک
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔