خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشن کی تیاری بدمعاشی ہے، مزاحمت جاری رہے گی، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں ممکنہ فوجی آپریشن کی تیاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طرزِعمل بدمعاشی کے مترادف ہے اور پاکستان جس راستے پر جا رہا ہے اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور سب نے متفقہ طور پر واضح کیا ہے کہ صوبے میں کسی بھی قسم کا ملٹری آپریشن قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم مزاحمت کر رہے ہیں اور آخری سانس تک مقابلہ کریں گے، جس طرح آج پاکستان تحریک انصاف ڈٹی ہوئی ہے، کوئی اور سیاسی جماعت اس دباؤ میں کھڑی نہیں رہ سکتی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ مزاحمت کے اس دور میں خواتین نے نئی تاریخ رقم کی ہے، اسی لیے انہوں نے ایمان مزاری کا نام لیا، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی بہنوں کی جدوجہد دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر آج مجھ پر مشکل وقت ہے تو کل یہی صورتحال دوسروں کو بھی درپیش ہو سکتی ہے، آگ اگر آج کسی ایک گھر کو لگی ہے تو کل سب کے گھروں تک پہنچ سکتی ہے، اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو کل سب کی باری آئے گی۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے انہیں سب کچھ دیا ہے، انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں، بانی پی ٹی آئی ہماری جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والا ظلم، جبر اور فسطائیت پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ حق کے لیے کھڑا ہونا ہی واحد راستہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔