اسلام آباد کو تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ، شہر کے تین میئر ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نظام ختم کرکے شہر کو تین ٹاوٴن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نئے نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئرز اور 6 نائب میئرز ہوں گے۔
میئر اور نائب میئرز کی مدت 4 سال۔ انتخاب چیئرمین یونین کونسلزکرینگے ۔صدارتی آرڈیننس صدر مملکت کو ارسال ،،دستخط کے بعد الیکشن کمیشن ترامیم کے تحت نئی حد بندیاں اور انتخابی شیڈول جاری کرے گا۔۔
کرلی ہے اور اسلام آباد کو تین ٹاوٴن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر دارالحکومت کو تین ٹاوٴنز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔نئے بلدیاتی نظام کے تحت ٹاوٴن کارپوریشنز کو انتظامی اور مالی خودمختاری دیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ سی ڈی اے کے متعدد اختیارات مرحلہ وار ٹاوٴن کارپوریشنز کو منتقل کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میئرز کو صفائی، نکاسی آب اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم اختیارات سونپے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق نئے نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئرز اور 6 نائب میئرز ہوں گے، ہر ٹاوٴن کارپوریشن میں ایک میئر اور دو نائب میئر تعینات کیے جائیں گے۔ ٹاوٴن میئر اور نائب میئر کا انتخاب براہ راست نہیں ہوگا بلکہ یونین کونسلز کے چیئرمین ٹاوٴن میئرز اور نائب میئرز کا انتخاب کریں گے۔میئر اور نائب میئرز کی مدت 4 سال مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صدارتی آرڈیننس جلد متوقع ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن ترامیم کے تحت نئی حد بندیاں اور انتخابی شیڈول جاری کرے گا۔نئے بلدیاتی ڈھانچے کے تحت اسلام آباد کی 125 یونین کونسلز کو آبادی کے تناسب سے تین ٹاوٴنز میں تقسیم کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ نظام سے مقامی سطح پر گورننس اور شہری سہولیات کی فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹاوٴن کارپوریشنز اور نائب میئر اسلام آباد تین ٹاوٴن میئر اور کے تحت کو تین
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔