وزیراعظم شہباز شریف کی بنگلادیشی ہائی کمیشن آمد، بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
تصویر بشکریہ، پی آئی ڈی
وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلادیشی ہائی کمیشن کا دورہ کیا اور سابقہ وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر تعزیت کی۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں بنگلادیشی ہائی کمیشن کے دورے کے دوران ناظم الامور سے ملاقات کی اور سابقہ وزیراعظم کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔
شہباز شریف نے اس موقع پر فاتحہ خوانی کی اور اپنے تعزیتی پیغام میں بیگم خالدہ ضیاء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ بیگم خالدہ ضیا صاحب بصیرت رہنما اور نامور سیاسی شخصیت تھیں، انہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کردی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیگم خالدہ ضیا کو پاکستان اور اس کے عوام کی مخلص دوست کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جنہوں نے ایک لازوال اور متاثر کن میراث چھوڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیگم خالدہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔