ڈنمارک کی وزیراعظم کا امریکی صدر سے گرین لینڈ پرقبضے کی دھمکیاں بند کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹ فریڈیرکسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق دھمکیاں دینا بند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو نہ گرین لینڈ اور نہ ہی ڈنمارک کی کسی بھی ریاست کو ضم کرنے کا کوئی حق حاصل ہے، اور کسی قریبی اتحادی کے خلاف اس نوعیت کے بیانات اور دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔
میٹ فریڈیرکسن نے واضح طور پر کہا کہ گرین لینڈ اور وہاں کے عوام فروخت کے لیے نہیں ہیں اور ان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈنمارک اپنی سرزمین اور اتحادیوں کے احترام کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈنمارک کی وزیراعظم کا یہ بیان وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر ٹرمپ کے اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود سنبھالنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ضرورت دفاعی مقاصد کے لیے ہے، نہ کہ صرف معدنی وسائل کے حصول کے لیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گرین لینڈ ڈنمارک کی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔