data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مزید ہلاکتوں کی صورت میں سخت اور ’بہت زوردار‘ امریکی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو جاری رکھتی ہے تو امریکہ فوری اور شدید ردعمل دے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مظاہرے حجم اور شدت کے لحاظ سے حالیہ برسوں کے سب سے بڑے احتجاجوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ تحریک 2022-2023 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی لہر سے بھی زیادہ وسیع اور شدید ہے، جس میں بڑے شہروں کے مختلف طبقے شریک ہیں اور حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری مظاہرے نہ صرف ملکی سطح پر سیاسی اور اقتصادی بحران کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ خطے میں امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی سفارتی اور عسکری دلچسپیوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے میں واشنگٹن کی جانب سے سخت انتباہ اور ممکنہ کارروائی کے اشارے نے صورتحال کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔

ایران میں مظاہرے اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور ملکی معیشت میں بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایرانی ریال کی تاریخی سطح تک گراوٹ کے باعث عوام سراپا احتجاج ہیں، مظاہرین نے بڑے شہروں میں دکانداروں کی ہڑتالوں سے آغاز کرتے ہوئے حکومت کے خلاف پرامن اور بعض اوقات پرتشدد احتجاجات کیے، جس کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 12 افراد، بشمول سکیورٹی اہلکار، ہلاک ہو چکے ہیں۔ ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی