ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں بڑھیں تو امریکا شدید کارروائی کر سکتا ہے، ٹرمپ کی دوبارہ دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مزید ہلاکتوں کی صورت میں سخت اور ’بہت زوردار‘ امریکی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو جاری رکھتی ہے تو امریکہ فوری اور شدید ردعمل دے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مظاہرے حجم اور شدت کے لحاظ سے حالیہ برسوں کے سب سے بڑے احتجاجوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ تحریک 2022-2023 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی لہر سے بھی زیادہ وسیع اور شدید ہے، جس میں بڑے شہروں کے مختلف طبقے شریک ہیں اور حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری مظاہرے نہ صرف ملکی سطح پر سیاسی اور اقتصادی بحران کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ خطے میں امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی سفارتی اور عسکری دلچسپیوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے میں واشنگٹن کی جانب سے سخت انتباہ اور ممکنہ کارروائی کے اشارے نے صورتحال کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔
ایران میں مظاہرے اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور ملکی معیشت میں بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایرانی ریال کی تاریخی سطح تک گراوٹ کے باعث عوام سراپا احتجاج ہیں، مظاہرین نے بڑے شہروں میں دکانداروں کی ہڑتالوں سے آغاز کرتے ہوئے حکومت کے خلاف پرامن اور بعض اوقات پرتشدد احتجاجات کیے، جس کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 12 افراد، بشمول سکیورٹی اہلکار، ہلاک ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔