سی ڈی اے مزدور یونین کے ملازمین کی پروموشن کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سی ڈی اے مزدور یونین (سی بی اے) کے زیر اہتمام ادارے کے 93جونیئراسسٹنٹ،انکوائری کلرک، اسٹور کلرک، سیمنٹ کلرک (بی پی ایس 11)کی بطور سب اسسٹنٹ (BPS-14) پروموٹ ہونے والے ملازمین کو پروموشن لیٹر دینے کے حوالے سے تقریب مرکزی یونین آفس میں منعقد ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ملازمین کے لیے حیران کن تحفہ، سی ای او کا کمپنی فروخت کر کے ملازمین کو کروڑوں کا بونس
سی ڈی اے مزدور یونین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تقریب میں سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکریٹری چوہدری محمد یٰسین نے تمام ترقی پانے والے ملازمین میں پروموشن لیٹرزتقسیم کیے۔
اس موقع پر سی ڈی اے مزدور یونین کے صدراورنگزیب خان، راجہ شاکرزمان کیانی، سپریم ہیڈ مرزا سعید اختر، صوفی محمودعلی، محمد عاصم ملک، اظہارعباسی، اسد محمود، محمد سرفرازملک، چوہدری زاہد احمد، واجد گجر، صفدرعباسی، شفیع اللہ خان، چوہدری ابرار، قاری عمردراز، ساجد رشید، سید ارشاد شاہ، چوہدری انور، ملک اسلم، راجہ ایاز، وقارخان، ندیم ستی، سردارآصف، چوہدری عابد، کلیم عباسی، ملک سجاد سمیت دیگرعہدیداران،سی بی اے کمیٹیز کے نمائندگان اور سی ڈی اے ملازمین بھی موجودتھے۔
اس موقع پر ترقی پانے والے ملازمین نے مزدور یونین کے قائدین کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ سی ڈی اے مزدور یونین ہی ملازمین کی نمائندہ تنظیم ہے جوملازمین کی بلاتفریق خدمت کررہی ہے اورہم امید کرتے ہیں کہ پہلے سے بڑھ کر تمام ملازمین کے مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کرائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سی ڈی اے اسلام آباد کے پلاٹ دھڑا دھڑ کیوں بیچ رہا ہے؟
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکریٹری چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ ہم نے ریفرنڈم میں جو وعدے کیے تھے، آج الحمد للہ اسکی تکمیل کررہے ہیں اورہم 7 ہزار سے زیادہ فیلڈ اسٹاف کی پروموشن کراچکے ہیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ مزدور یونین نے ادارے کے مالی،بیلدار،والومین و دیگر فیلڈسٹاف جو اسی اسکیل میں ریٹائرڈ ہو جاتا تھا،اس کی پروموشن کے لیے تعلیم کی شرط کا خاتمہ کرایا جس سے ادارے کے سینکڑوں ملازمین مستفید ہورہے ہیں اور وہ اگلے اسکیل میں ترقی حاصل کررہے ہیں۔
چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ ہم نے ان مشکل ترین حالات میں ملازمین کو 20فی صد مہنگائی الاؤنس دلوایا اور تمام الاؤنسزمیں 50سے 100فی صد اضافہ کرایا اور انشاء اللہ باقی ماندہ تمام مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کریں گے۔
اس موقع پر انہوں نے چیئرمین سی ڈی اے اور بورڈ ممبران سے اپیل کی کہ وہ ملازمین کی منتخب کردہ سی بی اے یونین کے ساتھ مل کر مذاکرات کریں تاکہ ملازمین کے مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کیا جاسکے اور ملازمین میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ترقی سی ڈی اے مزدور یونین ملازمین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے مزدور یونین ملازمین سی ڈی اے مزدور یونین کے ملازمین کی کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔