قومی مفاد میں یورپی یونین سے قریبی ہم آہنگی کیلئے تیار ہوں: سر کیئر اسٹارمر
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ کے قومی مفاد میں ہے تو ملک کو یورپی یونین کی منڈیوں کے ساتھ مزید قریبی ہم آہنگی کی طرف بڑھنا چاہیے۔
ان کے مطابق یورپ کے ساتھ تعلقات میں بہتری پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم بریگزٹ سے متعلق لیبر پارٹی کے بنیادی وعدوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ مستقبل میں یورپی یونین کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کسٹمز یونین کے بجائے سنگل مارکیٹ کو ترجیح دینا برطانیہ کے مفاد میں ہوگا، تاکہ امریکا اور بھارت کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدوں کو تحفظ دیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ لیبر پارٹی اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں پر قائم ہے اور نہ تو یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ یا کسٹمز یونین میں دوبارہ شمولیت اختیار کی جائے گی اور نہ ہی آزادی نقل و حرکت (فریڈم آف موومنٹ) کی بحالی پر غور کیا جا رہا ہے۔
سر کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ امریکا اور بھارت کے ساتھ قومی مفاد میں تجارتی معاہدے طے پا جانے کے بعد اب برطانیہ کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ کسٹمز یونین کے بجائے سنگل مارکیٹ کے ساتھ قریبی ہم آہنگی پر توجہ دے، کیونکہ ان معاہدوں سے دستبردار ہونا برطانیہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ برطانیہ پہلے ہی یورپی یونین کے ساتھ خوراک اور زراعت سے متعلق بعض قواعد و ضوابط میں ہم آہنگی کر رہا ہے، تاکہ یورپی تجارتی بلاک تک رسائی کو آسان بنایا جا سکے۔
دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی نے وزیرِاعظم کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ برطانیہ کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار بریگزٹ کو ٹھہرا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سر کیئر اسٹارمر کے یہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برطانوی حکومت یورپی یونین کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کو بتدریج مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے، تاہم یورپی یونین کی بنیادی رکنیت یا ادارہ جاتی شمولیت سے گریز جاری رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سر کیئر اسٹارمر یورپی یونین برطانیہ کے مفاد میں ہم آہنگی یونین کے کے ساتھ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔