لاہور: نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش، تحقیقاتی کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے 8 رکنی انکوائری کمیٹی بنا دی، کمیٹی ڈین فیکلٹی آف لاء جسٹس ریٹائرڈ محمد بلال خان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔
کمیٹی میں پروفیسر مغیث، پروفیسر احمد بلال، فرخ حفیظ، ڈاکٹر عائشہ، علی اسلم، محمد عامر، اسماہان رمضان شامل ہیں۔ محمد عامر اور اسماہان زخمی طالبہ کے کلاس فیلو ہیں۔
لاہور: خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ کی حالت تشویشناکواقعہ اسی نجی یونیورسٹی میں پیش آیا جہاں کے ایک طالبعلم محمد اویس نے تقریباً دو ہفتے پہلے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔
کمیٹی واقعہ کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔
خیال رہے کہ لاہور میں رائیونڈ روڈ پر واقع نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی جسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبہ کو دماغ پر چوٹ آئی ہے، وہ ہوش میں نہیں، طالبہ کی کمر کی کچھ ہڈیوں اور گھٹنے میں فریکچر ہے، اس کی حالت تشویشناک ہے، طالبہ کو جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ اسی نجی یونیورسٹی میں پیش آیا جہاں کے ایک طالبعلم محمد اویس نے تقریباً دو ہفتے پہلے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔
پولیس کے مطابق 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے نجی یونیورسٹی کی دوسری منزل سے نیچے چھلانگ لگائی۔ یونیورسٹی کے اندر سے موصول ہونے والے موبائل کلپس میں گارڈز کو زخمی لڑکی کو لے جاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
واقعہ کے بعد یونیورسٹی کو بند کر دیا گیا، طلبا یونیورسٹی کے باہر جمع ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور فارنزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنے شروع کیے۔ اس بارے میں متعدد طلبا نے بھی یونیورسٹی انتظامیہ کے بارے میں شکایات کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نجی یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش طالبہ کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔