پاکستانی طالبہ کا لندن اسکول اکنامکس کیخلاف قانونی مقدمہ، غلط مارکنگ سے کیمبرج کا خواب چکناچور
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پاکستانی طالبہ ریحاب اسد شیخ نے عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارے لندن اسکول آف اکنامکس یعنی ایل ایس ای کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے, ان کے مطابق گریجویشن کے بعد نمبرز دینے میں ہونے والی ناانصافی نے انہیں کیمبرج یونیورسٹی سے ایم فل کرنے کے ایک واضح طور پر ممکنہ موقع سے محروم کردیا۔
ریحاب اسد شیخ 2020 میں کراچی گرامر اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ آئیں، انہوں نے 2023 میں ایل ایس ای سے پالیسی اسٹڈیز میں گریجویشن مکمل کی، جس کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے ماڈرن ساؤتھ ایشین اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔
یہ بھی پڑھیں:انسانی حقوق کے وکیل نے اپنی لندن یونیورسٹی کی ڈگری کیوں جلا دی؟
تاہم آکسفورڈ ان کی پہلی ترجیح نہیں تھی؛ وہ دراصل کیمبرج یونیورسٹی میں ایم فل کرنا چاہتی تھیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مسائل کا آغاز ہوا، جس نے ان کی زندگی، کیریئر کے فیصلوں اور صحت کو متاثر کیا۔
Karachi student Rehab Asad Shaikh fights London School of Economics (LSE) after Cambridge dream broken in a huge marking error https://t.
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) January 5, 2026
سندھ کے علاقے خیرپور گمبٹ سے تعلق رکھنے والی ریحاب اس وقت برطانیہ کی ایک سرکاری وزارت میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تین سال قبل ایل ایس ای کی جانب سے ان کے ساتھ ناانصافی نہ ہوتی تو ان کے کیریئر کے انتخاب مختلف ہو سکتے تھے۔
2023 میں گریجویشن کے دوران برطانیہ بھر میں ہونے والے مارکنگ اینڈ اسیسمنٹ بائیکاٹ کے باعث ان کا انڈرگریجویٹ مقالہ معمول کے مطابق 2 اساتذہ کے بجائے صرف ایک ممتحن نے چیک کیا، جس پر انہیں 57 نمبر دیے گئے۔
مزید پڑھیں: امریکا میں غیر ملکی طلبا کے ویزے اچانک منسوخ، طلبا خوف و ہراس کا شکار
ریحاب کا ماننا تھا کہ یہ طریقۂ کار انہیں دیگر طلبہ کے مقابلے میں نقصان پہنچانے کا سبب بنا، جن کا کام ڈبل مارکنگ کے عمل سے گزرا تھا۔ انہوں نے ادارے کے اندرونی اپیل سسٹم، شکایتی طریقۂ کار اور بالآخر آفس آف دی انڈیپنڈنٹ ایڈجوڈی کیٹر تک تمام قانونی راستے اختیار کیے۔
تقریباً 2 سال سے زائد عرصے بعد ایل ایس ای نے ان کا مقالہ دوبارہ چیک کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ نتیجہ حیران کن تھا، ان کے نمبر 57 سے بڑھ کر 72 ہو گئے، یعنی 15 نمبروں کا واضح فرق رونما ہوچکا تھا۔
ریحاب نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے قانونی کارروائی اس لیے شروع کی ہے تاکہ یونیورسٹی کی جانب سے معافی، اس بات کا اعتراف کہ غلطی ہوئی، اس نقصان کا ازالہ اور اس امر کی یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ آئندہ کسی اور طالب علم کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
’ایل ایس ای مزاحمت کر رہا ہے، مگر میں انصاف ملنے تک ہار نہیں مانوں گی، بہت سے طلبا کے لیے مقالے کا نمبر صرف ایک ٹرانسکرپٹ پر درج عدد ہوتا ہے، لیکن میرے لیے یہ ڈھائی سالہ جدوجہد کا مرکز بن گیا، جس نے جوابدہی، طلبا کی فلاح و بہبود اور اداروں کے رویے سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیا۔‘
مزید پڑھیں: اسرائیل مخالف احتجاج پر امریکی یونیورسٹی میں ریپبلکن رہنما کی بیٹی معطل، 104 افراد گرفتار
نمبرز میں نمایاں اضافے کے باوجود ایل ایس ای نے اپنے بعد ازاں فیصلوں میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ کوئی غلطی نہیں ہوئی، ادارے پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور اس عمل کے کسی بامعنی منفی اثر کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔
ادارے نے ریحاب کو پیش آنے والے ذہنی دباؤ، تاخیر اور مواقع کے ضیاع کو ’ذاتی طور پر بیان کردہ، غیرمتاثرکن اور غیر اہم قرار دیا۔
ریحاب کے مطابق اس کے بعد کا وقت ان کے لیے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا، انہوں نے بتایا کہ جب 72 نمبر کے ساتھ نیا ریکارڈ جاری ہوا تو ان کی ٹرانسکرپٹ پر مختصر وقت کے لیے ایک ڈیپارٹمنٹل اکیڈمک انعام بھی درج کیا گیا، تاہم 2 گھنٹے بعد اسے غلطی قرار دے کر واپس لے لیا گیا۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں ویزا ختم ہونے پرغیرملکی طلبا کو ہوم آفس کی سخت وارننگ
بعد ازاں خط و کتابت کے بعد انعام بحال کر دیا گیا اور شعبے نے اس غلطی سے ہونے والی ذہنی اذیت کا اعتراف کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایل ایس ای انتظامیہ نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور صحت کے ماہرین کی جانب سے فراہم کردہ اضطراب اور ذہنی دباؤ سے متعلق خطوط کو بھی ’خود ساختہ اورغیرمؤثر‘ قرار دیا گیا۔
ریحاب اسد شیخ کا کہنا ہے کہ ان کا کیس منفرد نہیں۔ ’عوامی سطح پر بات کرنے کے بعد متعدد طلبا نے ان سے رابطہ کیا جنہوں نے اسی نوعیت کے تجربات بیان کیے، جن میں طویل تاخیر، غیر شفاف طریقۂ کار اور ادارہ چھوڑنے کے بعد طلبہ کی فلاح کو نظرانداز کرنا شامل ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آکسفورڈ یونیورسٹی ایل ایس ای ریحاب اسد شیخ کراچی گرامر اسکول کیمبرج لندن اسکول آف اکنامکس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا کسفورڈ یونیورسٹی ایل ایس ای کراچی گرامر اسکول کیمبرج لندن اسکول ا ف اکنامکس ایل ایس ای انہوں نے کے ساتھ کے لیے کے بعد
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔