پاکستانی طالبہ ریحاب اسد شیخ نے عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارے لندن اسکول آف اکنامکس یعنی ایل ایس ای کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے, ان کے مطابق گریجویشن کے بعد نمبرز دینے میں ہونے والی ناانصافی نے انہیں کیمبرج یونیورسٹی سے ایم فل کرنے کے ایک واضح طور پر ممکنہ موقع سے محروم کردیا۔

ریحاب اسد شیخ 2020 میں کراچی گرامر اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ آئیں، انہوں نے 2023 میں ایل ایس ای  سے پالیسی اسٹڈیز میں گریجویشن مکمل کی، جس کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے ماڈرن ساؤتھ ایشین اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔

یہ بھی پڑھیں:انسانی حقوق کے وکیل نے اپنی لندن یونیورسٹی کی ڈگری کیوں جلا دی؟

تاہم آکسفورڈ ان کی پہلی ترجیح نہیں تھی؛ وہ دراصل کیمبرج یونیورسٹی میں ایم فل کرنا چاہتی تھیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مسائل کا آغاز ہوا، جس نے ان کی زندگی، کیریئر کے فیصلوں اور صحت کو متاثر کیا۔

Karachi student Rehab Asad Shaikh fights London School of Economics (LSE) after Cambridge dream broken in a huge marking error https://t.

co/sRivCI24Xp

— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) January 5, 2026

سندھ کے علاقے خیرپور گمبٹ سے تعلق رکھنے والی ریحاب اس وقت برطانیہ کی ایک سرکاری وزارت میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تین سال قبل ایل ایس ای  کی جانب سے ان کے ساتھ ناانصافی نہ ہوتی تو ان کے کیریئر کے انتخاب مختلف ہو سکتے تھے۔

2023 میں گریجویشن کے دوران برطانیہ بھر میں ہونے والے مارکنگ اینڈ اسیسمنٹ بائیکاٹ کے باعث ان کا انڈرگریجویٹ مقالہ معمول کے مطابق 2 اساتذہ کے بجائے صرف ایک ممتحن نے چیک کیا، جس پر انہیں 57 نمبر دیے گئے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں غیر ملکی طلبا کے ویزے اچانک منسوخ، طلبا خوف و ہراس کا شکار

ریحاب کا ماننا تھا کہ یہ طریقۂ کار انہیں دیگر طلبہ کے مقابلے میں نقصان پہنچانے کا سبب بنا، جن کا کام ڈبل مارکنگ کے عمل سے گزرا تھا۔ انہوں نے ادارے کے اندرونی اپیل سسٹم، شکایتی طریقۂ کار اور بالآخر آفس آف دی انڈیپنڈنٹ ایڈجوڈی کیٹر تک تمام قانونی راستے اختیار کیے۔

تقریباً 2 سال سے زائد عرصے بعد ایل ایس ای نے ان کا مقالہ دوبارہ چیک کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ نتیجہ حیران کن تھا، ان کے نمبر 57 سے بڑھ کر 72 ہو گئے، یعنی 15 نمبروں کا واضح فرق رونما ہوچکا تھا۔

ریحاب نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے قانونی کارروائی اس لیے شروع کی ہے تاکہ یونیورسٹی کی جانب سے معافی، اس بات کا اعتراف کہ غلطی ہوئی، اس نقصان کا ازالہ اور اس امر کی یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ آئندہ کسی اور طالب علم کے ساتھ ایسا نہ ہو۔

’ایل ایس ای مزاحمت کر رہا ہے، مگر میں انصاف ملنے تک ہار نہیں مانوں گی، بہت سے طلبا کے لیے مقالے کا نمبر صرف ایک ٹرانسکرپٹ پر درج عدد ہوتا ہے، لیکن میرے لیے یہ ڈھائی سالہ جدوجہد کا مرکز بن گیا، جس نے جوابدہی، طلبا کی فلاح و بہبود اور اداروں کے رویے سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیا۔‘

مزید پڑھیں: اسرائیل مخالف احتجاج پر امریکی یونیورسٹی میں ریپبلکن رہنما کی بیٹی معطل، 104 افراد گرفتار

نمبرز میں نمایاں اضافے کے باوجود ایل ایس ای نے اپنے بعد ازاں فیصلوں میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ کوئی غلطی نہیں ہوئی، ادارے پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور اس عمل کے کسی بامعنی منفی اثر کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔

ادارے نے ریحاب کو پیش آنے والے ذہنی دباؤ، تاخیر اور مواقع کے ضیاع کو ’ذاتی طور پر بیان کردہ، غیرمتاثرکن اور غیر اہم قرار دیا۔

ریحاب کے مطابق اس کے بعد کا وقت ان کے لیے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا، انہوں نے بتایا کہ جب 72 نمبر کے ساتھ نیا ریکارڈ جاری ہوا تو ان کی ٹرانسکرپٹ پر مختصر وقت کے لیے ایک ڈیپارٹمنٹل اکیڈمک انعام بھی درج کیا گیا، تاہم 2 گھنٹے بعد اسے غلطی قرار دے کر واپس لے لیا گیا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں ویزا ختم ہونے پرغیرملکی طلبا کو ہوم آفس کی سخت وارننگ

بعد ازاں خط و کتابت کے بعد انعام بحال کر دیا گیا اور شعبے نے اس غلطی سے ہونے والی ذہنی اذیت کا اعتراف کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایل ایس ای انتظامیہ نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور صحت کے ماہرین کی جانب سے فراہم کردہ اضطراب اور ذہنی دباؤ سے متعلق خطوط کو بھی ’خود ساختہ اورغیرمؤثر‘ قرار دیا گیا۔

ریحاب اسد شیخ کا کہنا ہے کہ ان کا کیس منفرد نہیں۔ ’عوامی سطح پر بات کرنے کے بعد متعدد طلبا نے ان سے رابطہ کیا جنہوں نے اسی نوعیت کے تجربات بیان کیے، جن میں طویل تاخیر، غیر شفاف طریقۂ کار اور ادارہ چھوڑنے کے بعد طلبہ کی فلاح کو نظرانداز کرنا شامل ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آکسفورڈ یونیورسٹی ایل ایس ای ریحاب اسد شیخ کراچی گرامر اسکول کیمبرج لندن اسکول آف اکنامکس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا کسفورڈ یونیورسٹی ایل ایس ای کراچی گرامر اسکول کیمبرج لندن اسکول ا ف اکنامکس ایل ایس ای انہوں نے کے ساتھ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت