ٹرمپ کی وارننگ کے بعد وینزویلا کی قائم مقام صدر نے مفاہمتی لہجہ اپنالیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسے رودریگز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد اپنے لہجے میں نمایاں نرمی لاتے ہوئے امریکا کو تعاون کی پیشکش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ
گارجین کی رپورٹ کے مطابق ڈیلسے نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مشترکہ تعاون کے ایجنڈے پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اپنے بیان میں ڈیلسے رودریگز نے کہا کہ انہوں نے امریکی حکومت کو تعاون پر مبنی ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر میڈورو کی سابق نائب صدر نے ان کی شرائط نہ مانیں تو انہیں مادورو سے بھی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
ڈیلسے رودریگز اس وقت سے وینزویلا کے امور چلا رہی ہیں جب ہفتے کے روز سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو امریکی کارروائی میں گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا۔ دونوں کو پیر کے روز مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کردیا گیا۔
ہفتے کے روز سپریم کورٹ نے ڈیلسے رودریگز سے صدر کا حلف لیا جبکہ اگلے ہی دن وینزویلا کی مسلح افواج کی قیادت نے ان کی اتھارٹی تسلیم کر لی تاہم مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی برقرار رکھا۔
مزید پڑھیے: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ نیویارک کی عدالت میں پیش، فرد جرم عائد
مادورو کی گرفتاری کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اب وینزویلا کو چلائے گا اور یہ کہ ڈیلسے رودریگز اسی وقت تک اقتدار میں رہیں گی جب تک وہ وہی کریں گی جو ہم چاہتے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر باقی حکام نے تعاون نہ کیا تو امریکا دوسری کارروائی بھی کر سکتا ہے۔
ابتدا میں ڈیلسے رودریگز نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ وینزویلا کبھی دوبارہ کسی کی کالونی نہیں بنے گا تاہم اتوار کی رات پہلی کابینہ میٹنگ کے بعد انہوں نے مفاہمتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ متوازن اور باوقار تعلقات ان کی ترجیح ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ ترقی اور پائیدار امن کے لیے تعاون کریں۔
صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام اور ہمارا خطہ جنگ نہیں، امن اور مکالمہ چاہتے ہیں اور وینزویلا کو امن، ترقی، خودمختاری اور مستقبل کا حق حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: صدر وینزویلا مادورو کے بعد ٹرمپ کا اگلا عسکری قدم کیا ہوگا؟
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکی کارروائی کے بعد وینزویلا میں نافذ ایمرجنسی کے تحت پولیس کو ان افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے گئے ہیں جو امریکی حملے کی حمایت یا تشہیر میں ملوث پائے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈیلسے رودریگز انہوں نے کہا کہ کے بعد نے کہا
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔