Jasarat News:
2026-06-02@22:17:56 GMT

قاضی حسین احمدؒ: ایک فرد نہیں، ایک عہد کا نام

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-03-7

 

میر بابر مشتاق

ایک دھڑکتے دل کی خاموشی کا دن: 6 جنوری… محض کیلنڈر پر ایک تاریخ نہیں، بلکہ امت ِ مسلمہ کے اجتماعی شعور پر ایک گہرے زخم کا نشان ہے۔ یہ وہ دن ہے جب وہ دل رک گیا جو پوری امت کے درد کو اپنی دھڑکن بنا چکا تھا۔ یہ وہ آواز خاموش ہوئی جو ظلم کے ہر محاذ پر گونجتی تھی، جسے سن کر طاقتور بھی کانپ اٹھتے تھے۔ یہ جدائی ہے اس ہستی کی جس نے سیاست کو عبادت بنا دیا، قیادت کو امانت سمجھا، اور مزاحمت کو ایمان کا درجہ دیا۔ سابق امیر جماعت اسلامی، مجاہد ِ ملت قاضی حسین احمد نام لیتے ہی ذہن میں کوئی اکہری تصویر نہیں ابھرتی۔ بلکہ ایک پورا منظر کھل جاتا ہے: کردار کی مضبوطی، وقار کی بلندی، جرأت کی آگ، استقامت کی چٹان اور اخلاص کی شفافیت۔ وہ محض سیاست دان نہ تھے، بلکہ درویش صفت انسان تھے جنہوں نے سیاست کو روحانی سفر بنایا۔ ان کی سیاست اقتدار کی بھاگ دوڑ نہ تھی، بلکہ حق کی تلاش تھی، ایک ایسی مشعل جسے وہ ہمیشہ مسکراتے ہوئے اٹھائے رہے۔ وہ ان معدودے چند لوگوں میں سے تھے جن کی زندگی بھی ایک پیغام ہے اور موت بھی۔ جن کا جسم تو خاک میں مل گیا مگر ان کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں، ان کے نظریات آج بھی تازہ ہیں، ان کے قدموں کے نشان تاریخ کے صفحات سے مٹائے نہیں مٹتے۔

قاضی حسین احمد کی سب سے بڑی شناخت یہ تھی کہ وہ عوام کے ’’اپنے‘‘ تھے۔ انہیں کسی اشرافیہ نے نہیں بنایا تھا، بلکہ عوام کے دلوں نے چنا تھا۔ ان کی گفتگو میں ساختہ پن نہ تھا، ان کے انداز میں تکبر نام کو نہ تھا، ان کے لہجے میں کبھی نخوت نہ آئی۔ وہ بازاروں کی گھن گرج میں بھی، جلسوں کے ہجوم میں بھی، جلوسوں کی ریل پیل میں بھی، اْسی سادگی سے ملتے جیسے کوئی اپنا گھر کا بزرگ ہو۔ وہ جانتے تھے کہ اصل قیادت پروٹوکول کے حصار میں نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں میں بسی ہوتی ہے۔ ان کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا؛ ایک عام کارکن کے لیے بھی، ایک مظلوم کے لیے بھی، ایک سوال لے کر آنے والے طالب علم کے لیے بھی۔ یہی ان کی طاقت تھی: ان کا عوامی تعلق، ان کی زمین سے وابستگی۔ اگر قاضی صاحب کی شخصیت کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ ہے: ’’حق گوئی‘‘۔ ان کی سیاست کا مرکز و محور یہی تھا بے خوفی سے حق کہنا۔ وہ کبھی طاقت کے سامنے نہ جھکے، نہ مراعات کے لالچ میں آئے، نہ دھمکیوں سے ڈرے۔ چاہے آمریت کا دور ہو یا نام نہاد جمہوریت کا، چاہے عالمی طاقتیں ہوں یا مقامی ظالم؛ انہوں نے ہر ایک کو بے نقاب کیا۔ افغانستان میں امریکی جارحیت ہو، عراق پر قبضہ ہو، فلسطین میں مظلومیت ہو یا کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی۔ ان کا موقف ہمیشہ واضح، دو ٹوک اور بے خوف تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ خاموش رہنا بھی ایک قسم کا جرم ہے، اور انہوں نے اس خاموشی کے جرم سے کبھی سمجھوتا نہ کیا۔ ان کی تقریروں میں وہ آگ ہوتی تھی جو سننے والے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی۔ ان کے الفاظ میں وہ درد ہوتا تھا جو سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیتا۔ وہ نہ صرف خود بولتے تھے، بلکہ دوسروں کو بھی بولنے کی ہمت دیتے تھے۔

قاضی حسین احمد کے دل کا ایک خاص حصہ ہمیشہ فلسطین کے لیے دھڑکتا رہا۔ القدس ان کے نزدیک محض ایک جغرافیائی خطہ نہ تھا، بلکہ امت ِ مسلمہ کی عزت کی علامت تھی، ایک امانت تھی جس کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض تھی۔ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف محض نعرے بازی نہیں کرتے تھے، بلکہ عملی جدوجہد، عالمی سطح پر آگاہی پھیلانے اور امت کے مختلف حصوں کو متحد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی قیادت میں ہونے والے ’’ملین مارچ‘‘ آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں افراد ان کے پیچھے چل پڑتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ رہنما محض اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ ایک مقصد کے لیے کھڑا ہے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ اگر امت بیدار ہو جائے، تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

قاضی صاحب کی ذاتی زندگی ان کے نظریات کی عملی تصویر تھی۔ نہ محلات، نہ بیرون ملک کوٹھیاں، نہ شاہانہ طرز زندگی۔ وہ جو منبر سے کہتے، عملی زندگی میں وہی کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی بات میں وزن تھا، ان کی نصیحت میں اثر تھا، ان کی دعوت میں قبولیت تھی۔ انہوں نے سیاست کو عبادت سمجھ کر کیا، اس لیے ان کا دامن ہمیشہ آلودگیوں سے پاک رہا۔ ان کی سادگی ان کی طاقت تھی، ان کی دیانت ان کا سرمایہ تھی، ان کی درویشی ان کی شناخت تھی۔قاضی حسین احمد کی برسی محض ایک رسمی یادگاری تقریب نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ہمارے لیے ایک آئینہ ہے، ایک خود احتسابی کا موقع ہے۔ یہ ہمیں کچھ سوالات سے روبرو کرتی ہے: کیا آج کی سیاست میں قاضی صاحب جیسا کردار، ایسی بے خوفی، ایسی سادگی نظر آتی ہے؟ کیا ہم نے اصولوں کو اقتدار کی بھینٹ چڑھا دیا ہے؟ کیا حق گوئی اب بھی ہماری ترجیح ہے، یا ہم مصلحت کی سیاست کے اسیر ہو چکے ہیں؟ کیا ہم نے وہ آگ اپنے سینوں میں بجھا دی ہے جو ان کے الفاظ میں تھی؟ کیا ہماری جدوجہد میں وہ خلوص باقی ہے جو ان کی ہر

حرکت میں نظر آتا تھا؟ یہ سوالات ناگوار ضرور ہیں، مگر ضروری ہیں۔ کیونکہ بغیر خود احتسابی کے، بغیر اپنے آپ کو پرکھے، ہم کبھی بھی بہتر راستہ نہیں اختیار کر سکتے۔

قاضی حسین احمد آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کی فکر، ان کا اسلوب، ان کی جدوجہد آج بھی ہمارے سامنے ہے۔ وہ محض ایک فرد نہ تھے، بلکہ ایک تحریک تھے۔ وہ صرف ایک نام نہ تھے، بلکہ ایک نظریہ تھے۔ وہ ایک عہد تھے جو گزر گیا، مگر جس کی روشنی آج بھی ہمارا راستہ دکھا سکتی ہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ: اگر نیت صاف ہو، تو راستے خود بن جاتے ہیں۔ اگر کردار مضبوط ہو، تو وقت بھی سر جھکاتا ہے۔ اگر مقصد اللہ کی رضا ہو، تو شکست کا لفظ ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ اگر عوام سے تعلق ہو، تو طاقت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

6 جنوری ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں عظیم لوگوں سے بنتی ہیں، اور عظیم لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ قاضی حسین احمد انہی نادر ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو ایک پیغام بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قاضی حسین احمد زندہ ہیں ہمارے ضمیر میں، ہماری جدوجہد میں، ہر اس آواز میں جو ظلم کے خلاف اٹھتی ہے۔ وہ آج بھی ہمارے ساتھ چلتے ہیں، ہمارے ہر عزم میں، ہر وعدے میں، اور ہر اس قدم میں جو حق کی راہ پر بڑھتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی دنیا کے ایوانوں میں نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے۔ وہ گئے تو تاریخ کا ایک باب ختم ہوا، مگر ان کی داستان ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ایک ایسی داستان جو ہر نئی نسل کو جرأت، استقامت اور اخلاص کا سبق دیتی رہے گی۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلکہ ایک کی سیاست انہوں نے ا ج بھی میں وہ تھے کہ کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم