قاضی حسین احمدؒ: ایک فرد نہیں، ایک عہد کا نام
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-03-7
میر بابر مشتاق
ایک دھڑکتے دل کی خاموشی کا دن: 6 جنوری… محض کیلنڈر پر ایک تاریخ نہیں، بلکہ امت ِ مسلمہ کے اجتماعی شعور پر ایک گہرے زخم کا نشان ہے۔ یہ وہ دن ہے جب وہ دل رک گیا جو پوری امت کے درد کو اپنی دھڑکن بنا چکا تھا۔ یہ وہ آواز خاموش ہوئی جو ظلم کے ہر محاذ پر گونجتی تھی، جسے سن کر طاقتور بھی کانپ اٹھتے تھے۔ یہ جدائی ہے اس ہستی کی جس نے سیاست کو عبادت بنا دیا، قیادت کو امانت سمجھا، اور مزاحمت کو ایمان کا درجہ دیا۔ سابق امیر جماعت اسلامی، مجاہد ِ ملت قاضی حسین احمد نام لیتے ہی ذہن میں کوئی اکہری تصویر نہیں ابھرتی۔ بلکہ ایک پورا منظر کھل جاتا ہے: کردار کی مضبوطی، وقار کی بلندی، جرأت کی آگ، استقامت کی چٹان اور اخلاص کی شفافیت۔ وہ محض سیاست دان نہ تھے، بلکہ درویش صفت انسان تھے جنہوں نے سیاست کو روحانی سفر بنایا۔ ان کی سیاست اقتدار کی بھاگ دوڑ نہ تھی، بلکہ حق کی تلاش تھی، ایک ایسی مشعل جسے وہ ہمیشہ مسکراتے ہوئے اٹھائے رہے۔ وہ ان معدودے چند لوگوں میں سے تھے جن کی زندگی بھی ایک پیغام ہے اور موت بھی۔ جن کا جسم تو خاک میں مل گیا مگر ان کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں، ان کے نظریات آج بھی تازہ ہیں، ان کے قدموں کے نشان تاریخ کے صفحات سے مٹائے نہیں مٹتے۔
قاضی حسین احمد کی سب سے بڑی شناخت یہ تھی کہ وہ عوام کے ’’اپنے‘‘ تھے۔ انہیں کسی اشرافیہ نے نہیں بنایا تھا، بلکہ عوام کے دلوں نے چنا تھا۔ ان کی گفتگو میں ساختہ پن نہ تھا، ان کے انداز میں تکبر نام کو نہ تھا، ان کے لہجے میں کبھی نخوت نہ آئی۔ وہ بازاروں کی گھن گرج میں بھی، جلسوں کے ہجوم میں بھی، جلوسوں کی ریل پیل میں بھی، اْسی سادگی سے ملتے جیسے کوئی اپنا گھر کا بزرگ ہو۔ وہ جانتے تھے کہ اصل قیادت پروٹوکول کے حصار میں نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں میں بسی ہوتی ہے۔ ان کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا؛ ایک عام کارکن کے لیے بھی، ایک مظلوم کے لیے بھی، ایک سوال لے کر آنے والے طالب علم کے لیے بھی۔ یہی ان کی طاقت تھی: ان کا عوامی تعلق، ان کی زمین سے وابستگی۔ اگر قاضی صاحب کی شخصیت کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ ہے: ’’حق گوئی‘‘۔ ان کی سیاست کا مرکز و محور یہی تھا بے خوفی سے حق کہنا۔ وہ کبھی طاقت کے سامنے نہ جھکے، نہ مراعات کے لالچ میں آئے، نہ دھمکیوں سے ڈرے۔ چاہے آمریت کا دور ہو یا نام نہاد جمہوریت کا، چاہے عالمی طاقتیں ہوں یا مقامی ظالم؛ انہوں نے ہر ایک کو بے نقاب کیا۔ افغانستان میں امریکی جارحیت ہو، عراق پر قبضہ ہو، فلسطین میں مظلومیت ہو یا کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی۔ ان کا موقف ہمیشہ واضح، دو ٹوک اور بے خوف تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ خاموش رہنا بھی ایک قسم کا جرم ہے، اور انہوں نے اس خاموشی کے جرم سے کبھی سمجھوتا نہ کیا۔ ان کی تقریروں میں وہ آگ ہوتی تھی جو سننے والے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی۔ ان کے الفاظ میں وہ درد ہوتا تھا جو سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیتا۔ وہ نہ صرف خود بولتے تھے، بلکہ دوسروں کو بھی بولنے کی ہمت دیتے تھے۔
قاضی حسین احمد کے دل کا ایک خاص حصہ ہمیشہ فلسطین کے لیے دھڑکتا رہا۔ القدس ان کے نزدیک محض ایک جغرافیائی خطہ نہ تھا، بلکہ امت ِ مسلمہ کی عزت کی علامت تھی، ایک امانت تھی جس کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض تھی۔ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف محض نعرے بازی نہیں کرتے تھے، بلکہ عملی جدوجہد، عالمی سطح پر آگاہی پھیلانے اور امت کے مختلف حصوں کو متحد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی قیادت میں ہونے والے ’’ملین مارچ‘‘ آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں افراد ان کے پیچھے چل پڑتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ رہنما محض اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ ایک مقصد کے لیے کھڑا ہے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ اگر امت بیدار ہو جائے، تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
قاضی صاحب کی ذاتی زندگی ان کے نظریات کی عملی تصویر تھی۔ نہ محلات، نہ بیرون ملک کوٹھیاں، نہ شاہانہ طرز زندگی۔ وہ جو منبر سے کہتے، عملی زندگی میں وہی کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی بات میں وزن تھا، ان کی نصیحت میں اثر تھا، ان کی دعوت میں قبولیت تھی۔ انہوں نے سیاست کو عبادت سمجھ کر کیا، اس لیے ان کا دامن ہمیشہ آلودگیوں سے پاک رہا۔ ان کی سادگی ان کی طاقت تھی، ان کی دیانت ان کا سرمایہ تھی، ان کی درویشی ان کی شناخت تھی۔قاضی حسین احمد کی برسی محض ایک رسمی یادگاری تقریب نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ہمارے لیے ایک آئینہ ہے، ایک خود احتسابی کا موقع ہے۔ یہ ہمیں کچھ سوالات سے روبرو کرتی ہے: کیا آج کی سیاست میں قاضی صاحب جیسا کردار، ایسی بے خوفی، ایسی سادگی نظر آتی ہے؟ کیا ہم نے اصولوں کو اقتدار کی بھینٹ چڑھا دیا ہے؟ کیا حق گوئی اب بھی ہماری ترجیح ہے، یا ہم مصلحت کی سیاست کے اسیر ہو چکے ہیں؟ کیا ہم نے وہ آگ اپنے سینوں میں بجھا دی ہے جو ان کے الفاظ میں تھی؟ کیا ہماری جدوجہد میں وہ خلوص باقی ہے جو ان کی ہر
حرکت میں نظر آتا تھا؟ یہ سوالات ناگوار ضرور ہیں، مگر ضروری ہیں۔ کیونکہ بغیر خود احتسابی کے، بغیر اپنے آپ کو پرکھے، ہم کبھی بھی بہتر راستہ نہیں اختیار کر سکتے۔
قاضی حسین احمد آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کی فکر، ان کا اسلوب، ان کی جدوجہد آج بھی ہمارے سامنے ہے۔ وہ محض ایک فرد نہ تھے، بلکہ ایک تحریک تھے۔ وہ صرف ایک نام نہ تھے، بلکہ ایک نظریہ تھے۔ وہ ایک عہد تھے جو گزر گیا، مگر جس کی روشنی آج بھی ہمارا راستہ دکھا سکتی ہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ: اگر نیت صاف ہو، تو راستے خود بن جاتے ہیں۔ اگر کردار مضبوط ہو، تو وقت بھی سر جھکاتا ہے۔ اگر مقصد اللہ کی رضا ہو، تو شکست کا لفظ ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ اگر عوام سے تعلق ہو، تو طاقت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
6 جنوری ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں عظیم لوگوں سے بنتی ہیں، اور عظیم لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ قاضی حسین احمد انہی نادر ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو ایک پیغام بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قاضی حسین احمد زندہ ہیں ہمارے ضمیر میں، ہماری جدوجہد میں، ہر اس آواز میں جو ظلم کے خلاف اٹھتی ہے۔ وہ آج بھی ہمارے ساتھ چلتے ہیں، ہمارے ہر عزم میں، ہر وعدے میں، اور ہر اس قدم میں جو حق کی راہ پر بڑھتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی دنیا کے ایوانوں میں نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے۔ وہ گئے تو تاریخ کا ایک باب ختم ہوا، مگر ان کی داستان ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ایک ایسی داستان جو ہر نئی نسل کو جرأت، استقامت اور اخلاص کا سبق دیتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلکہ ایک کی سیاست انہوں نے ا ج بھی میں وہ تھے کہ کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم