Express News:
2026-06-03@02:29:56 GMT

بھارت کا نفرت انگیز بیانیہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

بھارت کو بنگلہ دیش کے ساتھ کھیل دشمنی مہنگی پڑگئی، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنی قومی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ بھارت کو کھیل کے میدان میں اختیارکی گئی دشمنانہ اور متعصبانہ پالیسی اب مہنگی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنی قومی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا باضابطہ اعلان محض ایک انتظامی یا سکیورٹی فیصلہ نہیں، بلکہ اس رویے کا فطری رد ِعمل ہے جو بھارت مسلسل کھیل، سفارت کاری اور علاقائی تعلقات میں اختیارکیے ہوئے ہے۔

کھیل کو ہمیشہ قوموں کے درمیان فاصلے کم کرنے، دلوں کو جوڑنے اور صحت مند مسابقت کے فروغ کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے، مگر بدقسمتی سے بھارت نے کھیل کو بھی نفرت، سیاست اور تعصب کی نذرکردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کرکٹ جیسا مقبول کھیل بھی اس کی متعصبانہ سوچ کی بھینٹ چڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔کچھ عرصہ قبل ایشیا کپ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں کا پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ تک نہ کرنا، اس کے بعد ٹرافی وصول کرنے سے ان کار اور منتظمین کی جانب سے ٹورنامنٹ جیتنے کے باوجود بھارت کو ٹرافی نہ دینا کھیل کی تاریخ کے افسوسناک واقعات میں شمار کیے جائیں گے۔

کھیل کے میدان میں اسپورٹس مین اسپرٹ بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں جیت اور ہارکے باوجود باہمی احترام اور شائستگی کو مقدم رکھا جاتا ہے، مگر بھارت میں کھیل کو بھی سیاست کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں نفرت انگیز بیانیہ اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ کھلاڑیوں کے رویے بھی اسی تعصب کی عکاسی کرنے لگے ہیں۔

یہ امر قابلِ غور ہے کہ کھیل کے ذریعے نفرت پھیلانے کا نقصان صرف ایک ملک یا ٹیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خطہ اس کے منفی اثرات کی لپیٹ میں آتا ہے۔ بنگلہ دیش جیسے ملک کا یہ فیصلہ کہ وہ اپنی ٹیم کو بھارت نہ بھیجے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی رویہ اب دیگر ممالک کے لیے ناقابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے پر فخر کرتا ہے، اگر کھیل جیسے غیر سیاسی شعبے میں بھی عدم برداشت اور تکبر کا مظاہرہ کرے گا تو عالمی برادری میں اس کی ساکھ متاثر ہونا ناگزیر ہے۔بھارت اس وقت عالمی سطح پر بھی مختلف محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے۔

مئی میں ہونے والی جنگ میں ناکامی ہو یا عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری، بھارتی قیادت کے لیے حالات پہلے ہی سازگار نہیں رہے۔ امریکا جیسے قریبی شراکت دار سے تعلقات میں دراڑیں پڑنا، کینیڈا اور برطانیہ کے ساتھ سفارتی کشیدگی اور یورپی ممالک میں بھارت کے کردار پر سوالات، سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مودی حکومت کی پالیسیاں دنیا میں اعتماد کھو رہی ہیں۔ اس کے باوجود بھارتی قیادت نے خود احتسابی کے بجائے جارحانہ اور مداخلت پسندانہ حکمتِ عملی کو مزید تیز کر دیا ہے۔

 خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بھارت غیر روایتی اور خفیہ ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ غیر تسلیم شدہ عبوری افغان حکومت کو پاکستان کے خلاف سازشوں کے لیے بطور ٹول استعمال کرنا، اس کی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کو استحکام، معاشی بحالی اور عالمی تعاون کی شدید ضرورت ہے، بھارت وہاں بھی اپنے تنگ نظر مفادات کے تحت آگ سے کھیل رہا ہے۔

یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔بھارت کی مداخلت صرف افغانستان تک محدود نہیں رہی۔ نیپال، سری لنکا، مالدیپ اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک بھی بھارتی دباؤ اور مداخلت کے تجربات سے گزر چکے ہیں۔ کبھی معاشی دباؤ،کبھی سیاسی انجینئرنگ اور کبھی خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت کے پڑوسی ممالک میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے اور علاقائی تعاون کے امکانات کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر اب محض الزامات نہیں بلکہ ٹھوس شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ کینیڈا، امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں حکومت مخالف سکھ رہنماؤں کے قتل کے الزامات نے بھارت کو عالمی سطح پر سخت تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ الزامات اگرچہ بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایک ریاستی پالیسی کے طور پر ماورائے عدالت کارروائیوں کا تصور عالمی قوانین اور سفارتی اقدار کے منافی ہے۔ ایسے اقدامات کسی بھی ملک کو تنہائی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

نریندر مودی کی قیادت میں بھارت جس تیزی سے انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہا ہے، وہ خود اسی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا بھارت جو کبھی سیکولرازم کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، آج کٹر ہندو ریاست کی شکل اختیارکر چکا ہے۔ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے جینے کا حق تک محدود کیا جا رہا ہے۔

مذہبی بنیادوں پر امتیازی قوانین، نفرت انگیز تقاریر اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد نے بھارت کے اندرونی حالات کو بھی شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹس، اقوام متحدہ کی تشویش اور عالمی میڈیا کی نشاندہی کے باوجود بھارتی حکومت کشمیری عوام پر ظلم و جبر سے باز نہیں آ رہی۔ مواصلاتی پابندیاں، سیاسی قیادت کی گرفتاریاں اور ماورائے عدالت قتل ایک طویل المیے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

اس کے باوجود بھارت عالمی سطح پر خود کو مظلوم اور امن پسند ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کی دوغلی پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کا موجودہ رویہ نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ سیاست، سفارت اور علاقائی امن کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا فیصلہ دراصل ایک وارننگ ہے کہ دنیا اب بھارتی تکبر اور تعصب کو مزید برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اگر بھارت نے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو اسے عالمی سطح پر مزید تنہائی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ حقیقت اب عالمی سطح پر واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور سیاسی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے جارحانہ قوم پرستی، نفرت انگیز بیانیے اور ہمسایہ دشمن پالیسیوں کا سہارا لے رہا ہے۔

کھیل ہو یا سفارت، معیشت ہو یا خارجہ امور، ہر شعبے میں مودی حکومت نے تصادم اور برتری کے زعم کو فروغ دیا ہے۔بھارت کے لیے لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ عالمی برادری اب اس کے دعوؤں کو بغیر سوال کے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکا کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری، کینیڈا اور برطانیہ کے ساتھ کھلے اختلافات، اور انسانی حقوق کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کا عالمی تشخص تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی طاقتیں اب بھارت کو محض ایک معاشی منڈی یا تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہیں، نہ کہ کسی اخلاقی یا سیاسی رہنما کے طور پر۔ یہ تبدیلی بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔خطے میں بھارت کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں نے جنوبی ایشیا کو مسلسل کشیدگی کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔

پاکستان کے خلاف سازشیں، افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں، اور دیگر پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت بھارت کی اسی جارحانہ ذہنیت کا تسلسل ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ علاقائی تعاون کے فورمز غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور مشترکہ ترقی کے خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بجائے مزید دور ہوتے جا رہے ہیں۔کشمیر کا مسئلہ اس تمام صورتحال کا سب سے تاریک پہلو ہے۔ وہاں جاری مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھارت کے جمہوری دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرتی ہیں۔ طاقت کے بل پر خاموشی مسلط کرنا کبھی دیرپا حل ثابت نہیں ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ذریعے مسائل دبائے تو جا سکتے ہیں، ختم نہیں کیے جا سکتے۔

بھارت اگر واقعی امن اور استحکام چاہتا ہے تو اسے کشمیر میں جبر کی پالیسی ترک کر کے سیاسی حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔بنگلہ دیش کا فیصلہ بھارت کے لیے ایک آئینہ ہے، جس میں اسے اپنا اصل چہرہ نظر آنا چاہیے۔ یہ ایک موقع ہے کہ بھارت اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے، کھیل کو سیاست سے الگ رکھے، اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری اور احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم کرے۔ اگر بھارت نے اس موقع کو بھی گنوا دیا تو مستقبل میں اسے مزید سفارتی تنہائی، معاشی دباؤ اور اخلاقی دیوالیہ پن کا سامنا کرنا پڑے گا۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ طاقت، غرور اور تعصب کسی قوم کو عظمت نہیں دلا سکتے۔

عظمت کا راستہ انصاف، برداشت اور احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ بھارت اگر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا تو کھیل کے میدان سے لے کر عالمی سفارت کاری تک اسے بار بار ایسے فیصلوں اور ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس کی اپنی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہوں گے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو نفرت کے بجائے ہم آہنگی، اور تصادم کے بجائے تعاون کو اپنا شعار بنائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے باوجود بھارت کھیل کے میدان عالمی سطح پر ہے کہ بھارت نفرت انگیز تعلقات میں بنگلہ دیش میں بھارت کے طور پر بھارت کو بھارت کے کے بجائے کے ساتھ کھیل کو رہی ہے کو بھی چکا ہے اس بات دیا ہے کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان