ملک میں سائبر خطروں سے نمٹنے کے لیے عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کے ساتھ اہم معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پاکستان نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (پی کے سرٹ) اور عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کے مابین ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ پاکستان کی قومی سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اس اہم معاہدے کے تحت سائبر خطرات کی شناخت، ان کے تدارک، اور روک تھام کے حوالے سے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ پی کے سرٹ اور کیسپرسکی کے درمیان یہ شراکت داری ملک میں سائبر مزاحمت کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔ اس کے تحت مختلف مربوط اقدامات کیے جائیں گے جن میں وسیع تربیتی پروگرام اور آگاہی مہمات شامل ہیں تاکہ حکومت، صنعتی اداروں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے تمام طبقات کی عملی تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ اشتراک استعداد کار میں اضافے کے لیے بھی کام کرے گا تاکہ ایک باصلاحیت سائبر سیکیورٹی افرادی قوت تیار کی جا سکے جو قومی و بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو۔ اس کے علاوہ دونوں ادارے پاکستان بھر میں متعلقہ فریقین تک قابلِ عمل سائبر خطرات سے متعلق معلومات بروقت پہنچانے کو بھی یقینی بنائیں گے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم اور کیسپرسکی سائبر سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون کریں گے، جن میں قانون سازی و ریگولیشنز، واقعات کی نشان دہی و ردعمل، تدارک کی حکمتِ عملی، سائبر سیکیورٹی تعلیم، تحقیق و ترقی اور معلومات کے پیشہ ورانہ تبادلے شامل ہیں۔ دونوں ادارے سائبر خطرات اور حملوں سے متعلق تکنیکی معلومات، انٹیلیجنس، اور ڈیٹا فیڈز کا تبادلہ بھی کریں گے تاکہ پاکستان کے شہریوں، کاروباروں، اور سرکاری اداروں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس معاہدے پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل نیشنل سرٹ ڈاکٹر حیدر عباس (تمغہ امتیاز) اور کیسپرسکی کے جنرل منیجر برائے مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان راشد المومنی نے دستخط کیے۔ اس موقع پر کیسپرسکی کے سی ای او یوجین کیسپرسکی اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی حکومتِ پاکستان شزہ فاطمہ خواجہ بھی موجود تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سائبر سیکیورٹی کیسپرسکی کے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔