پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں میوچل فنڈز کی سرمایہ کاری 10سال کی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق میوچل فنڈز کی جانب سے پاکستانی کرنسی میں تقریبا 84 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سال 2016ء کے بعد سال 2025ء کے دوران میوچل فنڈز کی جانب سے بڑی نوعیت کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں میوچل فنڈز کی سرمایہ کاری 10 سال بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان کے مطابق کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس کی ریکارڈ تیزی کے پشت پر میوچل فنڈز کی بھرپور خریداری سرگرمیاں شامل ہیں، این سی سی پی ایل کے مطابق میوچل فنڈز کی نیٹ خریداری 29 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہی۔ رپورٹ کے مطابق میوچل فنڈز کی جانب سے پاکستانی کرنسی میں تقریبا 84 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سال 2016ء کے بعد سال 2025ء کے دوران میوچل فنڈز کی جانب سے بڑی نوعیت کی سرمایہ کاری کی گئی۔ ڈیٹا کے مطابق میوچل فنڈز کا سرمایہ بینکوں میں ڈپازٹس اور بانڈز سے نکل کر ایکویٹی مارکیٹ میں آگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں سود کی شرح کم سطح پر برقرار رہنے سے میوچل فنڈز کی ایکویٹی مارکیٹ میں دلچسپی برقرار رہ سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کی سرمایہ کاری کی گئی
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔