خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج، اختیارات نہ ملنے پر نظام ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے فنڈز اور اختیارات کی عدم فراہمی کے خلاف پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران مصروف ترین خیبر روڈ کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا گیا، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ بعد ازاں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں نے احتجاج کے لیے اڈیالہ جیل کا رخ کیوں کیا؟
احتجاج میں شریک خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے منتخب بلدیاتی نمائندے مالک فیصل نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے گزشتہ 4 سال سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی اور اڈیالہ جیل کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا، لیکن اس کے باوجود بلدیاتی نمائندوں کو ایک روپے کا فنڈ بھی جاری نہیں کیا گیا۔
مالک فیصل کا کہنا تھا کہ اگر بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز نہیں دینے تو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے بلدیاتی نظام کو ہی ختم کر دیا جائے۔ ان کے مطابق 2021 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے، تاہم چند ماہ بعد ہی بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کر کے اختیارات واپس لے لیے گئے اور اس کے بعد سے بلدیاتی حکومتیں عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ریڈ زون میں بلدیاتی نمائندوں کا احتجاج، پولیس کی شیلنگ
احتجاجی مظاہرے کی قیادت مردان کے میئر حمایت اللہ مایار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے 4 سال ضائع کر دیے گئے۔ ان کے مطابق وعدوں کے باوجود نہ فنڈز دیے گئے اور نہ ہی اختیارات بحال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا اور انہیں دانستہ طور پر وسائل سے محروم رکھا گیا۔
حمایت اللہ مایار نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاق سے بقایاجات مانگ رہی ہے، لیکن خود بلدیاتی حکومتوں کو ان کا جائز حق اور فنڈز دینے میں ناکام ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی حکومتوں کی مقروض بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا مجوزہ نیا بلدیاتی نظام کیا خیبرپختونخوا ماڈل سے متاثر ہے؟
نوشہرہ سے منتخب بلدیاتی نمائندے تیمور کمال نے کہا کہ انہیں بھی ایک روپے کا فنڈ نہیں ملا اور بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہونے میں صرف 2 ماہ رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کو ان کے اپنے واجب الادا فنڈز تک فراہم نہیں کیے گئے۔
بلدیاتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق اگر اختیارات اور فنڈز فراہم نہیں کیے جاتے تو محض نام کے بلدیاتی نظام کا کوئی فائدہ نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news احتجاج اختیارات اسمبلی بلدیاتی نمائندے پشاور خیبرپختونخوا فنڈز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اختیارات اسمبلی بلدیاتی نمائندے پشاور خیبرپختونخوا بلدیاتی نمائندوں بلدیاتی نمائندے منتخب بلدیاتی خیبر پختونخوا بلدیاتی نظام نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔