ایران میں جاری کشمکش، استعماری سیاست اور امت مسلمہ کا امتحان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: موجودہ حالات میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ کا یہ بیان بہت اہمیت کا حامل ہے "قومی کرنسی کی قدر میں کمی پر کاروبار کرنیوالوں کا احتجاج صحیح ہے اور وہ حق بجانب ہیں، لیکن یہ کہ دشمن کے کچھ ایجنٹ تاجروں کے پیچھے چھپ جائيں اور ایران اور اسلام کیخلاف نعرے لگائیں، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ احتجاج اور فساد الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہم احتجاج کرنیوالوں سے بات کرتے ہیں، لیکن فساد اور ہنگامے پھیلانے والوں کو انکی جگہ پر بٹھا دینگے۔ دشمن کی سازش کو پہچاننا چاہیئے، کیونکہ وہ چین سے نہیں بیٹھتا اور ہر موقع سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے۔ ہم دشمن کے آگے جھکیں گے نہیں، خدا پر بھروسہ اور قوم کی ہمراہی سے دشمن کو جھکا دینگے۔" تحریر: سید انجم رضا
عالمی سیاست کی تاریخ پر اگر سنجیدہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل محض ریاستیں نہیں بلکہ ایک خاص استعماری اور مادیت پرست ذہنیت کے نمائندہ کردار ہیں۔ یہ طاقتیں انسانی اقدار، اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین سے زیادہ وسائل پر قبضے اور عالمی بالادستی کو اپنی سیاست کی بنیاد بناتی ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کے مختلف خطوں میں جو مسلسل جنگیں، مداخلتیں اور جارحانہ پالیسیاں نظر آتی ہیں، وہ دراصل عوامی وسائل کو ہڑپ کرنے اور اقوام کو محکوم رکھنے کے مختلف حیلے ہیں۔ جنگی ماحول اس لیے تخلیق کیا جاتا ہے، تاکہ عوام خوف، عدم استحکام اور معاشی دباؤ میں رہیں اور طاقتور طبقات بلا روک ٹوک اپنے مفادات سمیٹتے رہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ امریکہ و اسرائیل کا نشانہ ہمیشہ غریب، کمزور اور وسائل سے مالا مال اقوام رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور افریقہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔
ایران، استعماری منصوبوں کے سامنے دیوار
تاہم ایران کے معاملے میں استعماری طاقتوں کو غیر معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوششیں، چاہے وہ براہِ راست ہوں یا بالواسطہ، امریکہ و اسرائیل کے لیے ہزیمت اور ناکامی کا باعث بنیں۔ گذشتہ ڈیڑھ صدی میں یہ پہلا موقع تھا کہ استعماری قوتوں کی عسکری، سیاسی اور نفسیاتی برتری کا بھرم اس حد تک ٹوٹا۔ ایران پر مسلط کی جانے والی بارہ روزہ جنگ نے نام نہاد امریکہ-اسرائیلی جنگی برتری کا پول کھول دیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ مزاحمت، خود انحصاری اور عوامی حمایت کے ساتھ بڑی سے بڑی طاقت کو بھی روکا جا سکتا ہے۔
معاشی دباؤ اور اندرونی فتنہ
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران اس وقت معاشی مشکلات، مہنگائی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ عوام نے مہنگائی کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کروائے، جو ہر زندہ معاشرے کی علامت ہوتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ ایرانی حکومت نے ان مسائل کو دبانے کے بجائے عوامی نمائندوں، تاجر تنظیموں اور سماجی حلقوں سے مذاکرات کے ذریعے انہیں حل کرنے کی کوشش کی۔ ریال کی گراوٹ نے مہنگائی کو بڑھا دیا ہے، خوراک کی قیمتوں میں 72 فیصد اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی پابندیاں اور جوہری معاہدے کی بحالی میں تاخیر نے اقتصادی عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔ ایران میں ملکی کرنسی، ریال کی تاریخی گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے بعد مرکزی بینک کے سربراہ محمد رضا فرذین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد انہیں فارغ کر دیا گیا ہے اور مظاہروں میں تاجروں نے بھی دکانیں بند کر دی ہیں۔
یہ استعفیٰ تہران سمیت کئی شہروں میں ہونے والے احتجاج کے بعد آیا ہے، جس میں عوام نے اقتصادی بدحالی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ دشمن قوتوں نے اس معاشی بے چینی کو اندرونی فتنہ میں بدلنے کی بھرپور کوشش کی، مگر وہ اس میں ناکام رہیں۔ ہر ملک میں عوامی مسائل ہوتے ہیں، لیکن استعماری طاقتیں ان مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے سیاسی انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ ایران میں منافق گروہ، جو ہمیشہ سے امریکہ و اسرائیل کی پشت پناہی میں سرگرم رہے ہیں، ایک بار پھر منہ کی کھائیں گے۔
جغرافیہ، وسائل اور عالمی سیاست
قدرت کی ایک خاص فیاضی یہ ہے کہ جن خطوں میں مقدس مقامات واقع ہیں، وہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح کے خطے پوری دنیا میں غیر معمولی اسٹریٹیجک اہمیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان خطوں پر اثر و رسوخ رکھنے والا، کسی حد تک عالمی سیاست کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، یورپ اور اسرائیل کی مسلسل کوشش ہے کہ ایران کے اندر کسی نہ کسی سطح پر بے چینی اور فتنہ برقرار رکھا جائے۔
جمہوری اسلامی ایران کی داخلی قوت
اس مسلسل دباؤ کے باوجود جمہوری اسلامی ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کا عوامی و نظریاتی نظام ہے۔ اسلامی حکومت حکمِ الہیٰ کی اتباع میں دفاعی قوت کو مضبوط کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کے ساتھ رابطے اور تعلق کو بھی مربوط رکھے ہوئے ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ ایران میں انتخابات کبھی معطل نہیں ہوئے۔۔۔۔ چاہے وہ مرکزی سطح پر ہوں یا صوبائی و مقامی سطح پر۔ بسیج جیسی عوامی رضاکار فورس حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا مضبوط پل ہے، جو محض عسکری ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی و فکری تحریک بھی ہے۔
قیادت کا کردار
جمہوری اسلامی ایران کی سب سے مضبوط اور فیصلہ کن قوت اس کی قیادت ہے۔ رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ محض ایک سیاسی رہنماء نہیں بلکہ روحانی پیشوا، فکری مرکز اور انقلابی استقامت کی علامت ہیں۔ ان کی شخصیت نہ صرف ایران کے عوام بلکہ دنیا بھر کے مظلوم اور آزاد فکر لوگوں کے لیے کشش رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پیوٹن جیسے عالمی رہنماء بھی رہبرِ معظم کی بصیرت اور قیادت کے قائل نظر آتے ہیں۔ انقلابِ اسلامی کی ایک بڑی قوت یہ بھی ہے کہ وہ دین کے پرتو میں عالمی سیاست کرتا ہے، جہاں اخلاق، مزاحمت اور خودداری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
موجودہ حالات میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ کا یہ بیان بہت اہمیت کا حامل ہے "قومی کرنسی کی قدر میں کمی پر کاروبار کرنے والوں کا احتجاج صحیح ہے اور وہ حق بجانب ہیں، لیکن یہ کہ دشمن کے کچھ ایجنٹ تاجروں کے پیچھے چھپ جائيں اور ایران اور اسلام کے خلاف نعرے لگائیں، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ احتجاج اور فساد الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہم احتجاج کرنے والوں سے بات کرتے ہیں، لیکن فساد اور ہنگامے پھیلانے والوں کو ان کی جگہ پر بٹھا دیں گے۔ دشمن کی سازش کو پہچاننا چاہیئے، کیونکہ وہ چین سے نہیں بیٹھتا اور ہر موقع سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے۔ ہم دشمن کے آگے جھکیں گے نہیں، خدا پر بھروسہ اور قوم کی ہمراہی سے دشمن کو جھکا دیں گے۔" 3 جنوری 2026ء
امتِ مسلمہ، تقسیم یا وحدت؟
دشمن طاقتیں خود تو اتحاد اور یونین کی شکل میں منظم رہتی ہیں، مگر امتِ مسلمہ کو قوموں، ملکوں اور فرقوں میں تقسیم رکھنا ان کی مستقل حکمتِ عملی ہے۔ حالانکہ امت کی اصل قوت اس کی وحدت اور اتحاد میں ہے۔ رہبرِ معظم کا افغانستان سے یمن تک مشترکہ دفاعی خط کا تصور اسی وحدت کا عملی خاکہ پیش کرتا ہے۔ خصوصاً مکتبِ اہلِ بیتؑ کو اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ وہ اپنی سیاست کو دین کے تابع رکھے۔ انتخابی سیاست اگرچہ اہم ہے، مگر یہ ہماری کل سیاست نہیں ہوسکتی۔ شہید عارف حسین الحسینیؒ کے بقول، ہماری سیاسی جدوجہد کا اصل محور دین، انقلاب اور آفاقی فکر ہونا چاہیئے۔
نتیجہ
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی سیاسی جدوجہد کو محض اقتدار، انتخابات یا وقتی مفادات تک محدود نہ کریں بلکہ اسے ایک انقلابی، فکری اور عالمی تناظر میں دیکھیں۔ سول سوسائٹی کی رائے عامہ کو قائل رکھنا، فکری محاذ پر مضبوطی اور امت کے اندر وحدت کا فروغ ہی وہ راستہ ہے، جو ہمیں استعماری دباؤ سے نجات دلا سکتا ہے۔ ایران کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر قوم خوددار، قیادت بابصیرت اور سیاست دین کے تابع ہو تو بڑی سے بڑی استعماری طاقت بھی اپنے مقاصد میں ناکام ہو جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالمی سیاست ہے کہ ایران ایران میں ایران کے یہ ہے کہ کے خلاف دشمن کے کے بعد اور اس
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :