بھارت کو اپنے ہتھیار بیچنے میں وقت لگے گا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
گذشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور ونگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔فضائی نمائشوں کی تاریخ میں اس سے بڑے المیے رونما ہوئے ہیں۔
انیس سو تہتر میں پیرس ایر شو کے دوران ایرو فلوٹ کا پہلا سپر سانک ٹیوپولوف ٹی یو ون فورٹی فور طیارہ پہلی نمائشی پرواز کے دوران ہی گر پڑا۔عملے کے تمام پانچ افراد اور زمین پر موجود دیگر آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔
اٹھائیس اگست انیس سو اٹھاسی کو مغربی جرمنی میں امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال رامسٹین ایر بیس کے فضائی میلے میں آسمانی کرتب دکھانے والے اطالوی فضائیہ کے تین طیارے ٹکرا کے آگ کا گولہ بن گئے۔تینوں پائلٹوں سمیت ستر افراد ہلاک اور تین سو چھپن تماشائی شدید زخمی ہو گئے۔
آٹھ اکتوبر انیس سو نواسی کو بھارتی یومِ فضائیہ کے موقع پر دہلی میں ایک میراج طیارہ قلابازیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیچے گر پڑا۔ ونگ کمانڈر رمیش بخشی اور زمین پر کھڑا ایک اور شخص جان کی بازی ہار گئے۔
جولائی انیس سو ستانوے میں بلجئیم میں اوسٹینڈ ایر شو کے دوران اردنی فضائیہ کا ایک طیارہ کرتب دکھانے کے لیے ٹیک آف کے دوران نیچے گر پڑا۔پائلٹ سمیت آٹھ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔
جولائی دو ہزار دو میں یوکرین میں ایک فضائی نمائش کے دوران کرتب دکھاتے ہوئے یوکرینی فضائیہ کا سوخوئی طیارہ توازن کھونے کے سبب نیچے گر پڑا۔اس وقت نمائش میں دس ہزار تماشائی موجود تھے۔اٹھائیس بچوں سمیت ستتر افراد ہلاک اور ساڑھے پانچ سو زخمی ہوئے اور نیچے کھڑے کئی طیارے تباہ ہو گئے۔مگر حادثاتی طیارے کے دونوں پائلٹ زندہ بچ گئے۔
البتہ ایسے حادثات کے کاروباری نقصانات بھی ہوتے ہیں۔مثلاً دوبئی ایر شو میں تیجس کا پائلٹ سمیت تباہ ہو جانا ایک ایسا حادثہ ہے جس کے سبب بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کی شہرت اور صلاحیت پر بھی کچھ بنیادی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ویسے بھی دنیا میں چند ہی ممالک ہیں جن کے درمیان ہتھیاروں کی تجارت کا گلا کاٹ مقابلہ ہے۔ایسا کوئی بھی حادثہ ہتھیار فروخت کرنے والے ملک کی شہرت پر وقتی طور پر سہی مگر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔اس ملک کا نقصان کروڑوں اربوں ڈالرز کے آرڈرز کی شکل میں اسلحے کے دیگر تاجر ممالک کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
جیسے انڈونیشیا نے فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری کا سودا کیا مگر پاکستان سے لڑائی کے دوران ایک بھارتی رافیل کی تباہی کے بعد انڈونیشیا نے سودا منسوخ کر دیا اور طیارہ ساز کمپنی کے حصص کی قیمت بھی گر گئی۔
فورتھ جنریشن کا تیجس بھارتی اسلحہ انڈسٹری کے سر کا تاج ہے۔تیجس کا یہ پہلا حادثہ نہیں۔ مارچ دو ہزار چوبیس میں جیسلمیر کے قریب ایک تربیتی پرواز کے دوران پہلا تیجس گر کے تباہ ہوا۔خوش قسمتی سے پائلٹ محفوظ رہا۔
تیجس انیس سو تراسی میں ڈرائنگ بورڈ پر آیا مگر اس کی پہلی ٹیسٹ فلائٹ سترہ برس بعد دو ہزار ایک میں ممکن ہو سکی۔اس کے پچپن فیصد آلات ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے تیار کیے ہیں۔ ریڈار اور الیکٹرونکس سسٹم ساختہ اسرائیل ہے۔ اس میڈ ان انڈیا طیارے کی تیاری پر انیس سو تراسی سے اب تک ڈیڑھ بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
ہندوستان ایرو ناٹیکل لمیٹڈ ( ایچ اے ایل ) عرصے سے طیارے اور ہیلی کاپٹر تیار کر رہا ہے مگر سب سے بڑا گاہک یعنی بھارتی فضائیہ بھی ایچ اے ایل کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔تیجس مارک ون کی پروڈکشن دو ہزار چھ میں شروع ہو گئی۔دو ہزار گیارہ تک بیس طیارے فضائیہ کے حوالے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تاہم یہ ڈلیوری ستمبر دو ہزار چوبیس میں مکمل ہو سکی۔
فضائیہ کے سربراہ ایر چیف مارشل اے پی سنگھ نے تو کھلم کھلا چند ماہ پہلے کہہ دیا کہ فضائیہ کو ایچ اے ایل کی کارکردگی پر اعتماد نہیں۔ایچ اے ایل نے گذشتہ فروری تک گیارہ تیجس فضائیہ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔لیکن وہ ان میں سے ایک بھی طیارہ وعدے کے مطابق ڈلیور نہ کر سکی۔مگر اب فضائیہ کو چالیس طیارے بالاخر مل گئے ہیں۔بھارتی فضائیہ اپنے بیڑے میں تین سو چوبیس تیجس ( اٹھارہ اسکواڈرن ) شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔تاکہ مگ اکیس نامی ’’ فضائی تابوت ’’ سے گذشتہ برس جان چھوٹنے سے پیدا ہونے والا خلا بھرا جا سکے۔مگر پروڈکشن اور سپلائی لائن پر کلرک مزاج سرکاری بابو بیٹھے ہیں۔بھارتی فضائیہ کا تین سو سے زائد طیاروں کا آرڈر دو ہزار بتیس سے پہلے مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
جس قیمت پر تیجس غیر ملکی گاہکوں کو مہیا کیا جاتا ہے۔اسی قیمت میں دوبئی ایر شو میں چینی ساختہ جے ایف سیونٹین ، جے ٹین اور جے تھرٹی ون طیارے اور سویڈن کا گروپن بھی موجود تھا۔
دوبئی ایر شو میں تیجس کی تباہی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ آرمینیا نے ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر مالیت کے بارہ طیاروں کی خریداری کا سودا معطل کر دیا ۔یہ اس لیے بھی نیک شگون نہیں کہ پہلی بار کسی ملک نے تیجس خریدنے میں سنجیدگی سے دلچسپی ظاہر کی تھی۔ برازیل ، ارجنٹینا ، کانگو ، مصر اور ملیشیا بھی تیجس کو مختلف اوقات میں شارٹ لسٹ کر چکے ہیں مگر سخت بین الاقوامی مقابلے کے سبب یہ بیل کہیں بھی منڈھے نہیں چڑھ سکی۔
معاملہ صرف تیجس کی مارکیٹنگ کو دھچکا لگنے تک محدود نہیں۔ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ نے دو ہزار آٹھ میں جنوبی امریکا کے ملک ایکویڈور کی فضائیہ کو ساڑھے بیالیس ملین ڈالر مالیت کے سات دھروو ایڈوانس ہیلی کاپٹر فروخت کیے۔بھارتی فوجی ہیلی کاپٹرز کا یہ پہلا بڑا بین الاقوامی آرڈر تھا۔
مگر سات میں سے چار ہیلی کاپٹر یکے بعد دیگرے تکنیکی وجوہات کے سبب کریش ہو گئے۔ ایکویڈور نے دو ہزار پندرہ میں ایچ اے ایل سے مزید ہیلی کاپٹرز کی خریداری کا سودا ہی منسوخ کر دیا۔
دو ہزار بائیس میں ایچ اے ایل کے سربراہ اننتھا کرشن نے اعلان کیا کہ ارجنٹینا ، مصر اور فلپینز دھروو ہیلی کاپٹرز خریدنے پر آمادہ ہیں۔مگر اس اعلان کے چند ماہ بعد ایک اور دھروو ہیلی کاپٹر ارونا چل پردیش میں کریش کر گیا۔اس کے بعد اس ہیلی کاپٹر کی برآمد کے چراغوں میں روشنی نہ رہی۔معلوم نہیں کہ یہ ہیلی کاپٹر بھارتی فضائیہ بھی خوشی خوشی استعمال کر رہی ہے یا اسے زبردستی ٹکایا گیا ہے۔
اگرچہ امریکا ، برطانیہ ، فرانس ، روس اور چین جیسے ممالک کے طیارے بھی حادثات کا شکار ہوتے رہے ہیں مگر یہ ممالک چونکہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں لہذا گاہکوں پر ان کا اعتماد کسی ایک پروڈکٹ کے نقصان کے سبب وقتی طور پر تو متزلزل ہوتا ہے تاہم ان ممالک کی عسکری مصنوعات اتنی ہیں کہ کسی ایک نقصان سے ان کی تجارتی صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑتا۔بھارت جیسے ممالک چونکہ اسلحے کی فروخت کے میدان میں نئے نئے ہیں اور ان کے پاس بیچنے کے لیے آئٹم بھی کم ہیں۔ایسے میں کوئی ایک گڑبڑ بھی گاہک کا اعتماد گڑبڑانے کے لیے کافی ہے۔
بھارت کے سرکردہ دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کے بقول دنیا بھر میں جدید اسلحہ سازی کے شعبے میں نجی شعبہ چھا رہا ہے۔مگر بھارت میں ہتھیار سازی کے کلیدی منصوبے آج بھی سرکاری سیکٹر میں ہیں۔لہذا جب بابو ٹکنیکل کمپیٹیشن کے میدان میں اتریں گے تو بہت دور اور دیر تک نہیں دوڑ سکتے۔ اس صنعت کو شفاف ، اسمارٹ اور سخت مقابلے بازی کا عادی ہونے میں وقت لگے گا۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دوبئی ایر شو میں بھارتی فضائیہ ہیلی کاپٹر افراد ہلاک فضائیہ کے کے دوران ہو گئے کے لیے کے سبب گر پڑا
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم