کراچی کی 500 سے زائد مخدوش عمارتوں کے مستقبل کا فیصلہ آج ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی:
وفاقی حکومت نے قدرتی آفات کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو فوری اور جامع لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کر دی ہے۔
اس سلسلے میں آج اسلام آباد میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں کراچی کی سینکڑوں مخدوش عمارتوں اور ان میں مقیم ہزاروں مکینوں کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے حکام کو بھی شرکت کی ہدایت کی گئی ہے، جہاں وہ مخدوش عمارتوں، ناقص تعمیرات کے باعث ممکنہ حادثات، اور ان کی روک تھام میں حائل رکاوٹوں پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانچ سو سے زائد مخدوش عمارتیں موجود ہیں، جن میں رہائش پذیر افراد کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
مزید پڑھیںلیاری میں ایک اور حادثہ؛ رہائشی عمارت کی دو منزلوں کی چھتیں گرنے سے 2 خواتین جاں بحق اور 3 زخمی
لیاری میں بلڈنگ گرنے کا واقعہ: ایس بی سی اے افسران سمیت 10 ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا
اجلاس میں ان عمارتوں کے مکینوں کی محفوظ آبادکاری، عمارتوں کے سروے، اور ہنگامی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک بھر کے اہم ترقیاتی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے، جبکہ مخدوش عمارتوں سے ممکنہ انسانی جانوں کے ضیاع کی روک تھام کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے عملی تجاویز طلب کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مخدوش عمارتوں کے مکینوں کی متبادل آبادکاری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ تعاون کے بغیر ممکن نہیں، تاہم مذکورہ اجلاس کو قدرتی آفات جیسے زلزلے، سیلاب اور دیگر متوقع و غیر متوقع حادثات کی صورت میں اداروں کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مخدوش عمارتوں عمارتوں کے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔