وزیراعظم کی چھوٹے اور درمیانے کاروبار کیلیے آسان قرضوں کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں ایس ایم ایز کی ترقی سے برآمدات بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے سمیڈا (SMEDA) کے بزنس پلان کے حوالے سے اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے آئندہ 3 سال کا روڈ میپ پیش کیا گیا۔
وزیراعظم نے قابل عمل اور مؤثر پلان تشکیل دینے پر معاون خصوصی ہارون اختر اور سمیڈا کے نو منتخب بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پذیرائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی ترقی سے ملکی برآمدات میں اضافے کی بھرپور استعداد موجود ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بینکوں اور دیگر مالی اداروں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔ اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو درپیش مسائل، ان مسائل کے سدباب کے لیے لائحہ عمل، ایس ایم ایز کو ملکی برآمدات میں شامل کرنے کے لیے حکمت عملی اور بزنس پلان میں شامل دیگر اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو پاکستان کے ایس ایم ایز سیکٹر کو عالمی مارکیٹ میں مسابقتی بنیادوں پر متعارف کرانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ جاری تعاون کو مزید بڑھانے کے حوالے سے جاری اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی ایس ایم ایز کی استعداد بڑھانے کے لیے حال ہی میں 6 شہروں میں متعدد ورکشاپس کا انعقاد کیا جا چکا ہے جب کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار کرنے کے لیے متعدد تربیتی پروگرامز پر بھی کام جاری ہے۔
اجلاس میں خواتین کو ایس ایم ای سیکٹر میں شرکت اور بھرپور کردار ادا کرنے کے حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، سمیڈا کے نو منتخب بورڈ ارکان اور متعلقہ اداروں کے افسران شریک تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ایس ایم ایز کرنے کے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔