اسلام آباد کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ‘ شہر کے 3 میئر‘ 6 نائب میئر ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت)حکومت نے اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نظام ختم کرکے شہر کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نئے نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئرز اور 6 نائب میئرز ہوں گے۔میئر اور نائب میئرز کی مدت 4 سال، انتخاب چیئرمین یونین کونسلزکریںگے۔صدارتی آرڈیننس صدر مملکت کو ارسال ،دستخط کے بعد الیکشن کمیشن ترامیم کے تحت نئی حد بندیاں اور انتخابی شیڈول جاری کرے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے 3 حلقوں کی بنیاد پر دارالحکومت کو 3 ٹاؤنز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔نئے بلدیاتی نظام کے تحت ٹاؤن کارپوریشنز کو انتظامی اور مالی خودمختاری دیے جانے کی تجویز ہے جبکہ سی ڈی اے کے متعدد اختیارات مرحلہ وار ٹاؤن کارپوریشنز کو منتقل کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میئرز کو صفائی، نکاسی آب اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم اختیارات سونپے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق نئے نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئرز اور 6 نائب میئرز ہوں گے، ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور 2 نائب میئر تعینات کیے جائیں گے۔ ٹاؤن میئر اور نائب میئر کا انتخاب براہ راست نہیں ہوگا بلکہ یونین کونسلز کے چیئرمین ٹاؤن میئرز اور نائب میئرز کا انتخاب کریں گے۔میئر اور نائب میئرز کی مدت 4 سال مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صدارتی آرڈیننس جلد متوقع ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن ترامیم کے تحت نئی حد بندیاں اور انتخابی شیڈول جاری کرے گا۔نئے بلدیاتی ڈھانچے کے تحت اسلام آباد کی 125 یونین کونسلز کو آبادی کے تناسب سے 3 ٹاؤنز میں تقسیم کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ نظام سے مقامی سطح پر گورننس اور شہری سہولیات کی فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹاو ن کارپوریشنز اور نائب میئر اسلام ا باد میئر اور کے تحت
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔