data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گلشن حدید و اسٹیل ٹائون میں گزشتہ 7ماہ سے پانی کی بندش کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت جاری احتجاج کے سلسلے میں مرکزی شاہراہ پر لگائے گئے احتجاجی کیمپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ واٹر کارپوریشن گلشن حدید کو پانی کی فی الفور فراہمی یقینی بنائے ، عوام کب تک ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں پانی خریدتے رہیں گے؟ حکومت ہوش کے ناخن لے ، پانی سے محروم عوام کے پُر امن احتجاج کو نظر انداز نہ کرے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام نیشنل ہائی وے بند کر دیں ، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور قابض میئر جو واٹر کارپوریشن کے چیئر مین بھی ہیں ‘ کی نا اہلی و بد انتظامی اور مسائل کے حل سے عدم دلچسپی کے باعث آج آدھا شہر پانی سے محروم ہے ، یہی صورتحال اس وقت گلشن حدیدفیز 2.

1 ایکسٹینشن ،اسٹیل ٹائون کی ہے ، یہاں پچھلے 7 ماہ سے پانی نہیں آرہا ، جماعت اسلامی گلشن حدید سمیت شہر بھر کے عوام کے ساتھ ہے ، اہل کراچی کے حق اور مسائل کے حل کی جدو جہد جاری رہے گی ،پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت گزشتہ17سال میں کراچی کے 3360ارب روپے کھا چکی ہے ، کراچی کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے ، گٹر بہہ رہے ہیں ،سڑکیں ٹوٹی ہیں ، صوبائی حکومت کے کسی منصوبے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں ہوتی ،احتجاجی کیمپ سے سابق یوسی چیئر مین و سابق امیر ضلع محمد اسلام ، امیر ضلع ملیر سید مفخر علی ، سیکرٹری ضلع کامران نواز نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر پاسلو یونین کے سابق صدر و جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ،پاسلو کے صد ر عاصم بھٹی ، نائب امیر ضلع قدر گل و دیگر بھی موجود تھے ،منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ پہلے بھی بلک واٹرسپلائی ڈپارٹمنٹ اسٹیل مل و گلشن حدیدکو پانی دیتا تھا،اگر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کوپانی کی سپلائی کا کام دیا گیا ہے تو اس کی ذمے داری ہے کہ پانی فراہم کرے ، بصورت دیگر بلک واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کو فعال کیا جائے اور اس کے ذریعے پورے علاقے کو پانی مہیا کیاجائے اور اگر اس عمل میں اس کو مشینیں ،کیبلز ،ایمپلائز ، وغیرہ کی ضرورت ہے تو یہ فراہم کرنا میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی ذمے داری ہے ، قبضہ میئر راہ فرار اختیار نہیں کرسکتے ، انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے ، لیکن یہاں کے شہریوں کو بنیادی سہولیات بھی حاصل نہیں ہیں ، اسٹیل مل ایک قومی اثاثہ تھا اور 24 سے 25 ہزار لوگ اس سے وابستہ تھے ، آج اسی اسٹیل مل میں صرف 900ملازمین رہ گئے ہیں، زمینوں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے ، کروڑوں روپے میں پانی بیچا جارہا ہے ، ماضی میں کراچی کا اسلام آباد کہلانے والا گلشن حدید بھی حکمرانوں کی عدم توجہ کے باعث زبوں حالی کا شکا ر ہیں، پیپلز پارٹی وفاقی حکومت میں ہے ، صدر، سینیٹ چیئر مین،ڈپٹی اسپیکر، وزیر اعلیٰ ،میئر کراچی سمیت اس علاقے کے قومی وصوبائی ممبران بھی پیپلز پارٹی کے ہیں ، پورے ڈسٹرکٹ ملیر کے تینوں ٹائون چیئرمین، گلشن حدید یوسی چیئر مین بھی پیپلز پارٹی کے ہیں اور پیپلز پارٹی کی کرپشن ،بدانتظامی اور نااہلی پورے ضلع میں نظر آرہی ہے ، 24ستمبر 2024کو اسٹیل مل کے سی او نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو خط لکھاکہ اب آپ انتظام چلایئے ،پانی کا انتظام اب آپ کے ذمے ہوگا، اس کے بعد کبھی پانی آتا کبھی نہیں آتا لیکن بعد میں جولائی 2025سے پانی بند کردیا گیا ،اس حوالے سے جماعت اسلامی نے بھر پور کوشش اور جدو جہد کی اور متعلقہ ذمے داران کو خطوط لکھے ،ملاقاتیں کیں ، لیکن مسئلہ حل نہ ہوا ، علاقہ مکینوں کے مطابق 6 کروڑ سے 15 کروڑ روپے تک کی لاگت سے 3،3 انچ کی لائنیں ڈلوادی گئیں ،اس کے ذریعے 4 انچ کا پائپ لایا گیا اور کہا گیا کہ مرتضیٰ وہاب اس کا افتتاح کریں گے ، لیکن پتا چلا کہ 10 دن میں صرف ایک فٹ پانی بھرا ہے ، اس صورتحال میں ہزاروں کی آبادی میں کس طرح پانی سپلائی کیا جائے گا ، مرتضیٰ وہاب افتتاح کیے بغیر چلے گئے ، اب کہا جارہا ہے کہ یہاں 16انچ کی لائنیں ڈالی جائیں گی ۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پیپلز پارٹی گلشن حدید چیئر مین اسٹیل مل پانی کی کو پانی

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا