ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دینا بند کر یں‘ ڈینش وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوپن ہیگن: (ویب ڈیسک) ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹ فریڈرکسن نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں دینا بند کریں۔ڈینش وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کے لیے گرین لینڈ پر قبضے کی ضرورت کے بارے میں بات کرنا بالکل بے معنی ہے، امریکا کو ڈنمارک کی بادشاہت کے 3ممالک میں سے کسی کو ضم کرنے کا حق نہیں ہے۔میٹ فریڈرکسن کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب ٹرمپ کے ایک مشیرا سٹیفن ملر کی اہلیہ کیٹی ملر نے گرین لینڈ کا نقشہ امریکی پرچم کے رنگوں میں اور ساتھ لفظ ’’جلد‘‘ لکھ کر ٹویٹ کیا، ٹرمپ نے بارہا گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت اور معدنی وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اسے امریکا کا حصہ بنانے کے امکان کا ذکر کیا ہے۔ڈنمارک کی وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکا سے براہِ راست مخاطب ہیں، گرین لینڈ سمیت ڈنمارک نیٹو رکن ہے، ڈنمارک کا امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے جو اسے گرین لینڈ تک رسائی دیتا ہے اور ڈنمارک نے آرکٹک خطے میں سیکورٹی پر سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس لیے امریکا سے سختی سے کہوںگی کہ وہ ایک قریبی اتحادی اور ایک دوسرے ملک اور عوام کے خلاف دھمکیاں دینا بند کرے، ہم نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم فروخت کے لیے نہیں ہیں۔اس سے پہلے ائر فورس ون پر سوار ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہمیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک یہ نہیں کرسکے گا۔یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث ہے کہ جب امریکا نے وینزویلا کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی، اس کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر نیویارک منتقل کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔