ہزارہ کلچر ڈے پرریلی، بڑی تعداد میں نوجوانوں شریک
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-02-20
کراچی (پ ر)کراچی میں ہزارہ کلچر ڈے کے موقع پر نوجوان قیادت سید عمران شاہ اور وجاہت علی ربانی کی قیادت میں قائد آباد سے براستہ شارع فیصل سی ویو تک ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کے شرکا نے ہزارہ برادری اور پاکستان زندہ بادہ کے نعرے لگائے اور ہزارہ کے باسیوں کو ثقافتی دن پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی۔ شرکا نے پیغام دیا کہ ہزارہ کلچر ڈے صرف ایک دن نہیں بلکہ پہچان، تاریخ اور سکھوں و انگریز استعمار کے خلاف جہاد اور مشترکہ جدوجہد کی یاد دہانی ہے، اس کے ساتھ یہ دن ہزارہ کی ثقافت محبت، بھائی چارے، محنت اور امن کا پیغام بھی ہے۔ اس موقع پر وجاہت علی ربانی نے اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں خاص طور پر نوجوانوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے بڑی تعداد میں ہماری ثقافتی تقریبات میں شرکت کرکے نہ صرف اسے کامیاب بنایا بلکہ ہماری پْرامن ریلی کو بھی چار چاند لگادیے، ہمارا اصل مقصد اپنی شناخت اور کلچر کو فروغ دینا تھا جس کے لیے کامیاب پروگرام منعقد کیا گیا۔ سید عمران شاہ کا کہنا تھا کہ میں کراچی میں بسنے والے تمام ہزارے والوں کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے ہزارہ کلچر ڈے کے موقع پر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری قائدآباد کی اس پْرامن ریلی میں شرکت کی اور زندہ دل قوم ہونے کا ثبوت دیا۔سید عمران شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ہزارہ کلچر ڈے کے موقع پر ہماری ریلی میں نوجوان نسل نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے پورے شہر کو ایک مثبت پیغام دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ اس شہر میں بسنے والے کہ لاکھوں کی تعداد میں ہزارے وال متحد ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہزارہ کلچر ڈے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔