Jasarat News:
2026-07-24@02:17:39 GMT

جامعہ کراچی کے164طلباوطالبات کواسناد تفویض

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفسرو ڈاکٹر خالد محمودعراقی کی زیر صدارت منعقدہ ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈریسرچ بورڈ (اے ایس آربی)کے حالہل اجلاس میں 44 طلبا و طالبات کو پی ایچ ڈی جبکہ 106 طلبا و طالبات کو ایم فل،02 طلبہ کوایم ڈی (ڈاکٹرآف میڈیسن)، 03 طلبہ کوایم ایس (ماسٹر آف سرجری) اور 09 طلبہ کو کورس ورک (30 کریڈٹ آرز) مکمل کرنے پر ایم ایس کی اسناد تفویض کی گئی۔رجسٹرار جامعہ کراچی کے مطابق پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کرنے والوں میں محمد مجیب (زراعت)،محمد سلیم (بائیو ٹیکنالوجی)، ارشاد احمد(نباتیات)،صائمہ ریاض (نباتیات آئی ایس ایچ یو)،ایم فیصل سلطان،اْمِ کلثوم رضوی، ماہرہ مرزا(بزنس ایڈمنسٹریشن)،محمد غزالی حسین (کیمیاء )،سمیرا شہزادی،خدیجہ رحمان، مریم اشتیاق(کیمیاء ایچ ای جے)،وریشہ قہار (کلینکل سائیکولوجی)، سعد اکبر (کمپیوٹر سائنس)، مستنصر رضوان (جرمیات)، عبدالشکور، نصرت یعقوب (معاشیات)، ماہ نور، شیخ نبی بخش نذیر (ہیلتھ فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز)، واجد علی (تاریخ)، امجد علی (بین الاقوامی تعلقات)، باچا رحمان (تاریخ اسلام)، بشارت رفیق (اسلامک اسٹڈیز)،آمنہ سلیمان(میرین بائیو لوجی)، سمعیہ کائنات (خرد حیاتیات)، نازش مصطفی، فاطمہ جمیل (مالیکیولر میڈیسن)، سمیرا یونس (پاکستان اسٹڈیز)، تہمینہ مقبول (فارماسیوٹیکل)، محمد طلحہٰ سلیم، رئوف الرحمن (فارماسیوٹیکس)،ڈاکٹر محمد عابد، ڈاکٹر محمد انور بنگلزئی،رفعت فاروقی،زرین ناز، سارہ جمیل خان، ڈاکٹر شیخ ندیم احمد،کاشف رشید (فارما کولوجی)، ماریہ ارشد (طبیعیات)، ماروی (نفسیات)، محمد مقبول الرحمن،ثمین فاطمہ، دْرِشہوار خان (پبلک ایڈمنسٹریشن)،احمد رضا (عمرانیات) اور منیرا خانم (اْردو) شامل ہیں۔ ایم فل کی اسناد حاصل کرنے والوں میں افسانہ جبیں، عمران گل شیخ، کنول ،عاصم علی (اطلاقی معاشیات)، محمد کاشف، صدف ظہیر، مہوش افتخار (حیاتی کیمیاء)، حرا بقائی(حیاتی کیمیااین سی پی)، بشریٰ قریشی، اقرا، سید منیب الدین،ایمن عارف (بائیو ٹیکنالوجی)، ایم اشتیاق صدیقی، محمد ناصر شریف، اریبہ انصاری (نباتیات)،غلام مصطفی، شہناز زہرہ، زینب جاوید (نباتیات آئی ایس ایچ یو)، اقرا صادق، نورالعین، حدیثہ بتول (کیمیاء)، فیضان قمر،محمد کاشف (کیمیاء ایچ ای جے)، مدرہ اکرام، کائنات مٹھا خان سانڈ (کلینکل سائیکولوجی)، سرفراز احمد، جواد امین، قمر عباس علی عباسی،عثمان ظفر (جرمیات)، حمزہ فرید (تعلیم)، یسریٰ انیس (انگریزی )،صائمہ یوسف، وجیہہ نجم، نصرت امین (یورپین اسٹڈیز)، مریم سعید، راحیل ستار، سید احسن افتخار احمد قدر(فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی)، فضاء اعجاز (جغرافیہ)، ریحانہ رانی (جیولوجی)، عمیش کمار، ثریہ عابد رحمانی، سبیقہ زہرہ، انجیلاجون گِل (ہیلتھ فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز)، مشال مدنی (تاریخ)، ہمنہ الطاف (اسلامک لرننگ)،صدف شفیق،سلیم احمد فریدی ( اسلامک اسٹڈیز وتھ کمپیوٹر ٹیکنالوجی)، سمیرا یاسین (میرین بائیولوجی)، ماہم انیس، حبیب چشتی (ابلاغ عامہ)، وجیہہ طاہر، عائشہ طارق (مالیکیولر میڈیسن)، ذکیہ عباسی، عالیہ ارشد (پاکستان اسٹڈیز)، منصورہ (فارسی)، ثناء علی، فریحہ راشد، انل ورحہ، فوزیہ شفیع صدیقی (فارما سیوٹیکل کیمسٹری)، ایمن ستار،رابعہ عمران قریشی، انعم سمیع (فارما سیوٹیکس)، عائشہ احتشام، سیدہ یسریٰ شاہد، تبسم رضوی (فارماکوگنوسی)،انیزہ احمد،رشدہ فاطمہ، محمد محیب، عالیہ خلیل، نگہت پروین (ایجوکیشن)، سیف (ویمنز اسٹڈیز)، منال فاطمہ (نفسیات) اور سید طالب حیدرزیدی (کمپیوٹر سائنس) شامل ہیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار