نیو کراچی میں فائرنگ، منگنی کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں، نوجوان قتل
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیو کراچی سیکٹر فائیو ایل میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد گھر میں جاری خوشی کی تقریب سوگ میں تبدیل ہوگئی۔ پولیس حکام کے مطابق مقتول نوجوان کی شناخت سعد جاوید کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کے وقت سعد کے گھر پر اس کے بڑے بھائی کی منگنی کی تقریب جاری تھی۔ سعد گھر سے باہر دوستوں کو تقریب میں بلانے کے لیے نکلا تھا کہ اسی دوران موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے سعد سے موبائل فون چھینا اور مزاحمت پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ فائرنگ کی آواز سن کر اہلِ خانہ اور علاقہ مکین موقع پر پہنچے، تاہم ملزمان فرار ہوگئے۔مرحوم سعد جاوید کی نمازِ جنازہ ظہر کی نماز کے بعد ادا کی گئی، جس میں امیر جماعت اسلامی ضلع شمالی طارق مجتبیٰ، چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف، ناظم علاقہ نیو کراچی عمران شفیق، متعلقہ یوسی کے چیئرمین، وائس چیئرمین، کونسلرز اور اہلِ علاقہ سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔جنازے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے طارق مجتبیٰ اور محمد یوسف نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ سعد جاوید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے، آئے روز شہری ڈکیتی اور قتل کی وارداتوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ حکومتی نمائندے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے پولیس فورس کو اپنے ذاتی پروٹوکول کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مقررین نے خبردار کیا کہ اگر شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہوئی اور ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو کراچی
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔