ڈیجیٹل اکائونٹس سے فراڈ اورکرپشن کاخاتمہ ہوگا‘روبینہ خالد
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )چیئر پرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہاکہ بی آئی ایس پی پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ پروگرام ہے تاریخ میں پہلی بار ایک کروڑ خواتین کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولے جا رہے ہیں؛ اس اقدام سے فراڈ اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا‘ ادائیگیوں کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائیگا‘ سوشل پروٹیکشن والٹ کیلئے سمز بالکل مفت فراہم کی جارہی ہیں‘ بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت مستحق گھرانوں کے افراد کو معاشی طور پر خود مختار بنایا جائیگا‘ خواتین بی بی شہید کی طرح دلیر بن کا کرپٹ عناصر کی نشاندہی کریں، سخت کارروائی کی جائیگی‘ دنیا بی آئی ایس پی کے تجربات سے سیکھ رہی ہے؛ ہر تین سال بعد دوبارہ سروے ہوگا تاکہ پروگرام میں مزید مستحقین کو شامل کیا جاسکے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے کراچی میں تحصیل آفس آرام باغ اور ڈائنامک رجسٹری سینٹر کا دورہ؛ مستحق خواتین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد اور بی آئی ایس پی کے افسران نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے خواتین کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد سوشل پروٹیکشن والٹ کے لیے فراہم کی جانے والی سم حاصل کریں تاکہ ادائیگیوں میں شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت چاہتی ہے کہ خواتین کو ادائیگیاں مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فراڈ اور کرپشن کے خاتمے کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹ متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت دنیا میں پہلی بار ایک کروڑ خواتین کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولے جا رہے ہیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ لوگوں کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لیے بینظیر ہنرمند پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت خواتین اور ان کے بچوں کو جدید اسکلز کے کورسز کروائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوشل پروٹیکشن والٹ کے لیے سم بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہے اور بی آئی ایس پی کی تمام سہولیات مکمل طور پر مفت ہیں۔آخر میں سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ دنیا فانی ہے اور ہمیں اپنے ہر عمل کا جواب اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا، اس لیے بے بس اور مجبور خواتین کا حق نہ ماریں بلکہ ان کا سہارا بنیں۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ وفاقی فلاحی پروگرامز کو کراچی میں مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اور کے ایم سی کا اشتراک عوامی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا اور بلدیہ عظمیٰ کراچی ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
مانیٹرنگ ڈیسک
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انکم سپورٹ پروگرام بی ا ئی ایس پی روبینہ خالد نے کہا کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔