لاہور، یونیورسٹی طالبہ کی خود کشی کی کوشش، دوسری منزل سے کود گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور کی نجی جامعہ ’یونیورسٹی آف لاہور‘ میں فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخی ہوگئیں۔لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ طالبہ کا تعلق نارووال سے ہے اور اس کے والدین کو لاہور آنے کے لیے کہا گیا ہے۔ڈی آئی جی کے مطابق طالبہ نے فارمیسی ڈپارٹمنٹ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی اور ابتدائی طور پر یہ واقعہ خودکشی کی کوشش معلوم ہوتا ہے تاہم اس کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔انہوں نے بتایا کہ طالبہ کی ٹانگیں فریکچر ہو گئی ہیں اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کی حالت تشویشناک ہے تاہم سر پر کوئی شدید چوٹ نہیں آئی۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ واقعے سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل فون پر کسی سے بات کر رہی تھیں اور اسی دوران انہوں نے چھلانگ لگائی، مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔پولیس نے طالبہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا ہے جو لاک ہے۔ فیصل کامران کے مطابق علاج مکمل ہونے کے بعد طالبہ سے پاس ورڈ طلب کیا جائے گا، بصورت دیگر فون کا تکنیکی تجزیہ کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ واقعے کا تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور ڈی آئی جی کے مطابق یہ طالبہ کے والدین پر منحصر ہے کہ وہ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ادھر یونیورسٹی آف لاہور نے کیمپس میں ہونے والی تمام کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ واقعہ اس سے قبل 19 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کے تین ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جب یونیورسٹی آف لاہور کے ایک 22 سالہ فارم ڈی کے طالب علم نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی۔اہلِ خانہ اور ساتھی طلبہ کا کہنا تھا کہ کم حاضری کے باعث طالب علم کو ذہنی دباؤ اور تضحیک کا سامنا تھا اور فیس ادا کرنے کے باوجود اس کا پورا سمسٹر ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔