پیکا ایکٹ مارشل لا طرز کا سیاہ قانون ہے،صحافیوں کا سڑکوں پر نکلنے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی میزبانی میں پریس کلب میں ”میڈیا کے قوانین، ریگولیشنز اور اخلاقیات“کے موضوع پر ریجنل جرنلسٹس کنونشن منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی، قوم پرست، مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے پیکا ایکٹ کو میڈیا پر مارشل لا کے مترادف سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے آزادی اظہار اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے ساتھ صحافتی آزادی کی تحریک میں ہر قدم پر ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اس موقع پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر افضل بٹ نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں اور عام شہریوں کےخلاف قانونی کارروائیاں شروع کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے پیکا ایکٹ میں آزادی اظہار اور صحافتی اخلاقیات سے متعلق مثبت ترامیم کے لیے سندھ سمیت پورے ملک کے صحافیوں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور وکلا برادری سے مشاورت کر کے تجاویز حاصل کر رہی ہے تاکہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور صحافت کی آزادی و صحافیوں کے تحفظ کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پی ایف یو جے نے پہلے دن سے ہی پیکا ایکٹ کو مسترد کیا، مگر صرف مسترد کر کے خاموش بیٹھنا حل نہیں۔ پی ایف یو جے کے احتجاج کے بعد حکومت کو صحافیوں سے بات چیت پر مجبور ہونا پڑا۔ پی ایف یو جے نے فیصلہ کیا کہ صرف مخالفت کافی نہیں، بلکہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اپنا مسودہ تیار کر کے سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھا جائے۔ آج مشاورت کا آغاز ہے، اختتام نہیں، ہم کسی صورت پیکا ایکٹ کو تسلیم نہیں کریں گے۔پی ایف یو جے کے مرکزی جنرل سیکرٹری ارشد انصاری نے کہا کہ حیدرآباد میں آج کا کنونشن میڈیا قوانین میں اصلاحات کی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے پہلے بھی ایسے قوانین کو مسترد کر چکی ہے اور قلم پر پابندی لگانے والے قوانین کبھی قبول نہیں کیے جائیں گے۔ اگر حکومت صحافیوں کی تجاویز تسلیم نہ کرے تو پی ایف یو جے تحریک کا لائحہ عمل طے کر کے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کرے گی۔پی ایف یو جے کے مرکزی سینئر نائب صدر خالد کھوکھر نے کہا کہ پیکا قانون پورے ملک کے عوام کو متاثر کرے گا اور اس کے ذریعے حکومت مخالف یا طاقتور حلقوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سزا دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کنونشن کا مقصد سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تجاویز حاصل کر کے جدوجہد کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔پی ایف یو جے کے سینئر رہنما ناصر زیدی نے کہا کہ سیاہ قوانین کے خلاف ہمیشہ احتجاج ہوتا رہا ہے، مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو قانون بن جاتا ہے وہ ملک کا قانون بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کنونشن کا مقصد علاقائی سطح پر پیکا ایکٹ سے متاثر صحافیوں کا م¶قف سننا ہے۔نامور صحافی اور پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما مظہر عباس نے کہا کہ وہ اس قانون کو میڈیا مخالف سمجھتے ہیں اور اس میں ترمیم کے بجائے اسے واپس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندیاں ڈیجیٹل میڈیا کو فروغ دیتی ہیں اور پابندی دراصل آزادی کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 19 میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا۔پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما اقبال ملاح نے کہا کہ سندھ مزاحمت کی دھرتی ہے اور آج پاکستان کی سیاست میں سندھ کے صحافیوں کا اہم کردار ہے۔سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ صحافیوں کی تحریک کو انسانی آزادیوں کی تحریک بنانا ہوگا اور ایس ٹی پی ہر قدم پر صحافیوں کے ساتھ رہے گی۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید،جئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو، سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے رہنما روشن علی برڑو، عوامی تحریک کے نور احمد کاتیار، عوامی ورکرز پارٹی کے بخشل تھلہو، ایچ آر سی پی کی غفرانہ آرائیں، ویمن ایکشن فورم کی حسین مسرت شاہ اور دیگر مقررین نے بھی پیکا ایکٹ کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔کنونشن سے ایچ یو جے کے صدر وسیم خان، جنرل سیکرٹری جام فرید لاکو اور دیگر رہنما¶ں نے بھی خطاب کیا جبکہ جے پرکاش مورانی نے میڈیا قوانین پر پریزنٹیشن دی۔ کنونشن میں پی ایف یو جے، حیدرآباد پریس کلب، ایچ یو جے کے عہدیداران اور سندھ بھر سے صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایف یو جے کے مرکزی انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ کو کہا کہ پی
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔