گزشتہ برس پرانی کتابوں کے بازار سے احمد ندیم قاسمی کے کالموں کی کتاب ’کیسر کیاری‘ کا وہ نسخہ ملا جو انہوں نے منو بھائی کو دیا تھا۔ اس پر قاسمی صاحب کے ہاتھ سے لکھی یہ عبارت موجود ہے:
عزیز مکرم منو بھائی کی نذر
احمد ندیم قاسمی
8 ستمبر 99
یہ کتاب اس بیوپاری سے خریدی ،ارزانی ہو نہ ہو، اس کے نرخ بالا ہی ہوتے ہیں۔ دستخطی نسخوں کی قیمت وہ کچھ اور بھی بڑھا دیتے ہیں کیونکہ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ کتابوں کے عشاق ان کا در چھوڑ کے اور کدھر جائیں گے۔
قاسمی صاحب کی یہ کتاب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ میرے کتب خانے میں پہلے سے موجود تھی لیکن کتاب کی مذکورہ کاپی کی حیثیت منفرد ہے اور اسے دیکھ کر ’دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکر رہ گئیں‘، جو اتفاق سے منو بھائی کی ایک پنجابی تحریر ‘معذرت’ کے ایک ٹکڑے میں سمو گئی ہیں جسے میں نے اردو میں منتقل کیا ہے:
’میٹرک کے امتحان میں حساب کے پرچے میں دو بار فیل ہوا تو میرے ابا جی بہت ناراض ہوئے۔ ایک روز انہوں نے میری کتابوں میں ‘امروز’ اخبار کا ادبی ایڈیشن (قسمت علمی و ادبی) دیکھ کر مجھے بہت مارا۔ میری امی جی مجھے بچانے کے لیے آئیں تو انہیں بھی دو پڑ گئیں جس کا مجھے آج بھی افسوس ہے۔
کیمبل پور سے راولپنڈی آکر میں نے اپنی کچھ پنجابی نظمیں ‘امروز’ کے اُس وقت کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی صاحب کو بھیجیں تو انہوں نے یہ نظمیں ‘امروز’میں شائع کردیں اور مجھے منیر احمد قریشی سے منو بھائی بنا دیا۔ یہ نام مجھے میرے کلاس فیلو اور دوست عنایت الٰہی ملک نے دیا تھا جسے میں نے کوشلیا(7ویں جماعت میں منو بھائی کی کلاس فیلو جسے ایک دفعہ انہوں نے اپنا شعر سنایا تو اس نے ان کا منہ چوم لیا تھا ) سے اپنی دوستی کا قصہ سنایا اور یہ بتایا تھا کہ کوشلیا کو گھر میں منی کہا جاتا تھا۔ عنایت نے منی کا ‘منو’ بنایا اور ساتھ بھائی لگا دیا۔ اس بات کا قاسمی صاحب کو بھی پتہ تھا جنہوں نے مجھے منو بھائی بنایا اور میں منو بھائی بن گیا۔
میری امی جی نے’امروز‘ میں چھپنے والی یہ نظمیں اپنی زندگی کے آخری سانسوں تک اپنے پاس سنبھال کر رکھی ہوئی تھیں اور میرے ابا جی کو دکھا کر کہا تھا ’آپ نے اس اخبار کو دیکھ کر منیر کو مارا تھا۔ منیر اب اس اخبار میں چھپ رہا ہے‘ میں نے جب ’امروز‘ اخبار میں ملازمت کرلی تو امی جی بہت خوش ہوئیں۔ وہ سمجھیں میں شاید اپنے ابا جی کی مار کا بدلہ لے رہا ہوں۔‘
اب اس ترجمے کے دائرے سے باہر نکل کر بات کرتے ہیں۔ اردو میں رفتگاں کی یاد میں منو بھائی سے زیادہ پرسوز کالم شاید ہی کسی اور نے لکھے ہوں جنہیں علامہ اقبال کے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے: ’مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ دردانگیز نالے ہیں۔‘
سنہ 1984 میں منو بھائی کے کالموں کا پہلا انتخاب ’جنگل اداس ہے‘ شائع ہوا تو اس میں گزرے ہوؤں کے بارے میں کالم تھے۔
اس کتاب کے لیے بیش تر کالم ممتاز شاعر اور منو بھائی کے عزیز دوست احمد مشتاق نے منتخب کیے تھے جن کا یہ شعر ہے:
رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ رفتگاں
پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں
ان کالموں کی ترتیب و اشاعت میں معاون اسلم ملک کے ساتھ منو بھائی کے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے احمد مشتاق کی کتاب ‘اوراق خزانی’ انہیں پہنچانے گیا تو ان سے ہماری بہت سی باتیں ہوئیں۔
منو بھائی نے بتایا کہ ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو احمد مشتاق نے کہا کہ ان کے بیٹی ہوتی تو وہ اس کا نام سجل رکھتے، اس پر انہوں نے کہا یہ تمہاری بھی بیٹی ہے، اس لیے اس کا نام سجل ہی ہو گا۔
احمد مشتاق کی ‘پاکستان کے لیے ایک دعا’ ان کے سنگ میل والے کلیات(2021) میں پہلی دفعہ شامل ہوئی لیکن عشروں پہلے یہ قارئین تک محمد ادریس کے انگریزی اور منو بھائی کے اردو کالم کے ذریعے پہنچی تھی :
سدا رہیں تیرے کھیت سنہرے
کوٹھے بھرے رہیں
پانی رہے ترے دریاؤں میں
جنگل ہرے رہیں
امن ملے تیرے بچوں کو
اور انصاف ملے
دودھ ملے چاندی سا اجلا
پانی صاف ملے
بات قاسمی صاحب کے کالموں کی کتاب سے شروع ہوئی اور پہنچی منو بھائی کے کالموں کے مجموعے تک۔ اس لیے قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ بتاتے چلیں کہ کالم نویسی کی صنف میں منو بھائی احمد ندیم قاسمی ،ابن انشا اور انتظار حسین کی ہنر مندی کے قائل تھے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ’میرے پیشرو ہی نہیں پیشوا بھی ہیں کہ انہیں پڑھ کر ہی میں نے لکھنا سیکھا ۔ ان کی رہنمائی کے علاوہ مجھے ان کی شفقت، دوستی اور پیار کی دولت بھی ملی ہے اور قاسمی صاحب نے تو مجھے قلم کے علاوہ نام بھی دیا ہے۔‘
منو بھائی کی موہنی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کی زبان کی لکنت کے مسئلے کو جاننا ضروری ہے۔ اس کے پیچھے چھپی کہانی کے وہ آپ راوی ہیں اور لکنت کی وجہ سے انہیں جو شعور حاصل ہوا اسے بھی انہوں نے بیان کر رکھا ہے:
’میرے بچپن میں کسی بات پر میرے والد صاحب نے میری امی جان کو ایک تھپڑ مارا تھا اور اس حادثے کے صدمے سے گزرنے کے فوراً بعد میری زبان میں لکنت آگئی تھی۔ اس لکنت نے مجھے یہ شعور دیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے تہذیبی اور سماجی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو کبھی کسی موٹے، کالے، لنگڑے اور گنجے شخص کو تضحیک یا مذاق کا نشانہ بنانے کی حماقت نہیں کی جائے گی۔ قدرتی جسمانی رنگت ،ساخت یا کمزوری کو مذاق کی زد میں لانا دراصل قدرت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ خدا کی خدائی پر ایمان رکھنے والوں کو قدرت خداوندی کا مذاق اڑانے کے گناہ سے گریز کرنا چاہیے۔‘
اس لکنت سے منو بھائی کو اس شعور کے ساتھ ساتھ زندگی میں خواتین کے احترام کا درس بھی ملا۔ بچپن میں لڑکے بالے منیرا تھتھا کہہ کر ان کا ٹھٹھا اڑاتے تھے اس لیے ان سے وہ رفتہ رفتہ دور ہو گئے اور لڑکیوں کو ہم جولی بنایا اور ان کی صحبت میں جی لگنے لگا کیوں کہ وہ منیرا تھتھا کہہ کر ان کی بھد نہیں اڑاتی تھیں۔
کوشلیا سے دوستی بھی اسی زمانے سے یادگار ہے۔
وہ کلور کوٹ کے اسٹیشن ماسٹر پنڈت وشنو داس شرما کی بیٹی تھی جو رام لیلا میں سیتا بنتی اور منو بھائی کو لکشمن بناتی تھی۔
سنہ 1945 میں 12 برس کی عمر میں منو بھائی نے اسے شعر سنایا تو اس نے جذبات کے رو میں بہہ کر کہا تھا کہ اور بھی شعر لکھو اور مجھے سناؤ ۔ منو بھائی کے بقول ’میں نے کوشلیا کی یہ فرمائش 7 سال بعد پوری کی لیکن اسے کسی بھی طرح سنا نہیں سکتا تھا ۔ صرف یہ سوچا کیا کہ وہ نہ جانے کہاں ہو گی۔ کہیں ہونی بھی ہے یا نہیں؟‘
ماں کے چہرے پر لگنے والے تھپڑ نے ان کی زندگی کا دھارا بدل کر رکھ دیا ۔ ان کے قریبی دوست اور سینئر صحافی اسلم ملک کے بقول:
’ماں کے رخسار پر وہ تھپڑ ہی تھا جس نے انہیں ایسا فیمینسٹ بنایا کہ ویمن ایکشن فورم (WAF ) والیوں نے انہیں اعزازی ’عورت شِپ‘ دے دی۔‘
خواتین کے تعلق سے منو بھائی کی ایک خوب صورت یاد شریف کنجاہی کے بارے میں ان کے پنجابی مضمون ‘کنجاہ دا شریف’ میں بھی بیان ہوئی ہے۔
شریف کنجاہی اپنی بے جی کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرتے تھے بس ایک معاملے میں ماں کی حکم عدولی کی ۔ شریف کنجاہی کی والدہ کا خیال تھا کہ بیٹے کے ہاں اولاد نرینہ نہ ہوئی تو خاندان کا نام باقی نہیں رہے گا اس لیے وہ پہلی بیوی کی موجودگی میں بیٹے کی دوسری شادی کروانا چاہتی تھیں۔ شریف کنجاہی نے ماں کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہا خاندان ان کی بیٹی اور اس کے بچوں کی صورت میں باقی رہے گا۔ منو بھائی کے بقول ’آج خالدہ اپنے نامور والد کی اتنی عزت کرتی ہے جتنی شاید ہی کوئی بیٹی اپنے باپ کی کرتی ہو اور شریف خالدہ کے بچوں میں بیٹھا بالکل ایک بچہ لگتا ہے۔‘
منو بھائی سے ماں کی محبت کے کئی رنگ تھے جس میں سے کچھ اس نیک بندی کے انتقال پر لکھے گئے کالم ’ماواں ٹھنڈیاں چھاواں‘ میں بھی ظاہر ہوئے ۔ ایک رنگ ذرا آپ بھی دیکھیے:
’صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو اپنی موت سے چند سال قبل اپنی والدہ کی موت کا صدمہ پہنچا تو انہوں نے کہا کہ اس دنیا میں ایک ہی وجود ایسا تھا جو مجھے مصطفیٰ کہہ کر پکارتا تھا ماں کے ساتھ یہ مصطفیٰ بھی وفات پا گیا۔ اس وقت میں ان کی یہ بات پوری طرح نہیں سمجھا تھا مگر یکم مارچ کو پوری طرح سمجھ گیا جب میری ماں کے ساتھ منیر احمد بھی وفات پا گیا۔ ‘
منو بھائی نے اس کالم میں اپنی والدہ کی ہر دل عزیزی کا بھی بتایا ہے کہ وہ زندگی میں جہاں بھی رہیں اپنے پیچھے محبت کی داستان چھوڑ آئیں، اس لیے ریلوے کی ملازمت کے دوران منو بھائی کے والد کا تبادلہ ہوتا تو اسٹیشن پر انہیں الودع کہنے والوں کا ہجوم ہو جاتا جس کی وجہ منو بھائی کے خیال میں ان کی والدہ محترمہ کا حسنِ سلوک تھا۔
ان کے انتقال پر منو بھائی نے لکھا کہ جن جگہوں پر ان کی زندگی گزری تھی وہاں کے بہت سے لوگ ان کے انتقال کی خبر سن کر دوڑے چلے آئے جس کی وجہ ان کے بقول ’یہ سب میری امی کی محبت تھی۔‘
مرنے کے بعد لوگوں کی یہ محبت منو بھائی کے حصے میں بھی آئی کیونکہ اپنی والدہ کی طرح ان کے گھر اور دل کا دروازہ بھی دوسروں کے لیے کھلا رہتا تھا۔
منو بھائی کی والدہ ان کے دوستوں کو اپنا بیٹا سمجھتی تھیں۔ ادھر منو بھائی کو اپنے یاروں کی ماؤں کی نظر میں یہ درجہ حاصل تھا۔ یاور حیات کے انتقال پر کالم میں ان کی والدہ ماجدہ کی ایک خاص عادت کا تذکرہ منو بھائی نے اپنے کالم میں کیا تھا۔ اسی پر ہم اپنی بات ختم کرتے ہیں:
’میں جب بھی اپنے گھر سے ٹیلی وژن اسٹیشن جاتے ہوئے راستے میں یاور حیات کو لے لیتا تھا تو ماں جی جو کہ فلم ڈائریکٹر پروڈیوسر انورکمال پاشا کی ہمشیرہ تھیں، اپنے گھر کے بیرونی دروازے میں کھڑے ہو کر ہمیں دور تک جاتی دیکھتی رہتی تھیں اور ہمارے اوجھل ہوجانے کے بعد وہاں سے ہٹتی ہوں گی۔ جمعہ 4 نومبر کی سہ پہر کو جب یاور حیات اپنے آخری سفر پر روانہ ہوئے ہوں گے، انہیں اپنی گلی کا آخری موڑ مڑتے کون دیکھے گا؟ آخری گلی کا موڑ مڑنے والوں کو دیکھنے والے رہ کتنے گئے ہیں؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔
احمد ندیم قاسمی امروز اخبار کیسر کیاری منو بھائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کیسر کیاری منو بھائی میں منو بھائی منو بھائی کی منو بھائی نے منو بھائی کو منو بھائی کے شریف کنجاہی احمد مشتاق کے انتقال کے کالموں انہوں نے کی والدہ کے کالم کے بقول کے ساتھ تھا کہ ماں کے اس لیے نے کہا کے لیے
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین