برطانوی ولی عہد ولیئم اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہیری کو وراثت سے محروم کروانے کے لیے کوشاں
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
برطانوی شاہی خاندان سے متعلق رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ برطانوی ولی عہد پرنس ولیئم پس پردہ سرگرم ہو کر اپنے بھائی پرنس ہیری کو خاندانی وراثت میں حصہ ملنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہزادہ ولیم اور ہیری کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی، وجہ کیا ہے؟
میگزین ’کلوزر‘ سے بات کرتے ہوئے ایک شاہی سورس نے دعویٰ کیا کہ شاہی خاندان میں پرنس ولیم کے اثر و رسوخ کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔
سورس (ذریعے) کا کہنا ہے یہ ولیئم کی رائے شاہی نظام میں بہت وزن رکھتی ہے اور جب وہ کسی معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں تو لوگ سنتے ہیں، جن میں ان کے والد بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پرنس ولیئم کی تشویش کی بنیادی وجہ پرنس ہیری اور میگھن مارکل کی شادی کے مستقبل سے متعلق خدشات ہیں۔
ولیئم کو اندیشہ ہے کہ مستقبل میں اس رشتے کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ خاندانی وراثت تک رسائی محدود رکھی جائے۔
ایک ذریعے کے مطابق ولیئم خود کو یہ ذمہ داری دیتے ہیں کہ وہ کئی قدم آگے کا سوچیں اور دوسروں کو بھی خبردار کریں۔ ان کے نزدیک شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کو کسی ممکنہ وراثت پر بھروسا کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیے: شہزادی ڈیانا کی روایت جاری رکھتے ہوئے پرنس ولیم کی کرسمس پر بےگھر افراد سے ملاقاتیں
ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پرنس ولیئم اس معاملے پر خاصے پرعزم ہیں اور وہ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ونڈسر اور اسپینسر خاندان کی وراثت میں پرنس ہیری کا کوئی حصہ نہ ہو۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق میگھن مارکل اس وقت اپنے لگژری لائف اسٹائل برانڈ’ایز ایور‘ پر کام کر رہی ہیں جبکہ وہ نیٹ فلکس پر اپنے شو ’ود لو میگھن‘ پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: شہزادہ ولیم چچا اینڈریو کے خلاف سخت اقدام پر کیوں خوش ہیں؟
واضح رہے کہ شاہی خاندان کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ طور پر کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانوی ولی عہد ولیئم شہزادہ ہیری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی ولی عہد ولیئم شہزادہ ہیری پرنس ہیری ہیں کہ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔