کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بلاجواز اجلاس کا بائیکاٹ افسوسناک ہے، طارق فضل چودھری
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر پارلیمانی اُمور کا کہنا تھا کہ احتجاج کی کال کے دوران پرامن احتجاج کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، عدم تعاون کا رویہ معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ کشمیرجوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بلاجواز اجلاس کا بائیکاٹ افسوسناک ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں طارق فضل چودھری کے زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں کشمیر سمیت مختلف اُمور پر تفصیلی بات چیت کی گئی جب کہ دوسرا اجلاس مظفر آباد میں خوشگوار ماحول میں ہوا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بلاجواز اجلاس کا بائیکاٹ افسوسناک ہے، آج کے اجلاس میں معاہدے کے ایک ایک نکتے پر تفصیل سے غور کیا گیا، 19 اموات کے باوجود متعدد ایف آئی آرز ختم کر دی گئیں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی اُمور کا کہنا تھا کہ احتجاج کی کال کے دوران پرامن احتجاج کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، عدم تعاون کا رویہ معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اموات کے علاوہ پولیس کے کئی جوان زخمی بھی ہوئے۔ طارق فضل چودھری کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج میں شریک سرکاری ملازمین کو بحال کیا گیا، جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ دیئے گئے، زخمی ہونے والے افراد کو 10،10 لاکھ روپے دیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طارق فضل چودھری احتجاج کی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔