رضویہ سوسائٹی پلاٹ سی 4کی ازسرنو تعمیر کا حکم، قانونی تقاضوں سے انحراف
اتھارٹی کے متنازع اقدام پر عوام میں غصہ،ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی ملوث

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ضلع وسطی میں قائم رضویہ سوسائٹی کا پلاٹ نمبر سی 4کی ازسرنو تعمیر کا حالیہ فیصلہ قانونی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بن رہا ہے ۔واضح رہے کہ یہ پلاٹ نہ صرف غیرقانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا، بلکہ اب اسے غیرقانونی طریقے سے بحال کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔قانونی ماہرین کے مطابق، پلاٹ نمبر سی 4کی تعمیر شروع سے ہی بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی پر مبنی تھی۔ یہ تعمیر بغیر منظور شدہ ڈیزائن، بغیر تعمیراتی اجازت نامے اور بغیر متعلقہ محکموں سے منظوری کے کی گئی تھی۔ جسے چند ماہ پہلے بالائی منزلوں کو منہدم کردیا گیا تھا ، اور بلڈر کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی گئی تھی ۔ایسی صورت میں ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی جانب سے اس کی ازسرنو تعمیر کا حکم دینا دراصل غیرقانونی عمل کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ،یہ اقدام اتھارٹی کے دوہرے معیار کو واضح کرتا ہے۔ ایک طرف تو محکمہ شہر بھر میں دیگر غیرقانونی تعمیرات کو گرانے پر عملدرآمد کرتا ہے ،تو دوسری طرف پلاٹ نمبر سی 4جیسی واضح غیرقانونی تعمیر کو بحال کرنے کا حکم دے رہا ہے ۔ جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے سوسائٹی کے دیگر رہائشیوں نے اس فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر پلاٹ نمبر سی 4کی تعمیر غیرقانونی تھی، تو اس کی بحالی کا بھی کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر سی 4 کی ازسرنو تعمیر کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے ، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ابتدائی غیرقانونی تعمیر کے لیے کیا کارروائی ہوگی۔یہ صورت حال ایک اہم سوال کھڑا کرتی ہے ،کیا غیرقانونی عمل کی بنیاد پر کھڑی کی گئی عمارت کی بحالی واقعی انصاف ہے ، یا محض قانونی نظام کو کمزور کرنے کی ایک کوشش؟پلاٹ نمبر سی 4کا معاملہ دراصل اس بات کا امتحان ہے کہ آیا ہمارا قانونی نظام واقعی انصاف فراہم کرتا ہے یا صرف طاقتور کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کی ازسرنو تعمیر پلاٹ نمبر سی کرتا ہے کا حکم

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ