سندھ بلڈنگ، ناجائز تعمیر ات کو غیر قانونی بحال کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
رضویہ سوسائٹی پلاٹ سی 4کی ازسرنو تعمیر کا حکم، قانونی تقاضوں سے انحراف
اتھارٹی کے متنازع اقدام پر عوام میں غصہ،ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی ملوث
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ضلع وسطی میں قائم رضویہ سوسائٹی کا پلاٹ نمبر سی 4کی ازسرنو تعمیر کا حالیہ فیصلہ قانونی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بن رہا ہے ۔واضح رہے کہ یہ پلاٹ نہ صرف غیرقانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا، بلکہ اب اسے غیرقانونی طریقے سے بحال کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔قانونی ماہرین کے مطابق، پلاٹ نمبر سی 4کی تعمیر شروع سے ہی بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی پر مبنی تھی۔ یہ تعمیر بغیر منظور شدہ ڈیزائن، بغیر تعمیراتی اجازت نامے اور بغیر متعلقہ محکموں سے منظوری کے کی گئی تھی۔ جسے چند ماہ پہلے بالائی منزلوں کو منہدم کردیا گیا تھا ، اور بلڈر کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی گئی تھی ۔ایسی صورت میں ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی جانب سے اس کی ازسرنو تعمیر کا حکم دینا دراصل غیرقانونی عمل کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ،یہ اقدام اتھارٹی کے دوہرے معیار کو واضح کرتا ہے۔ ایک طرف تو محکمہ شہر بھر میں دیگر غیرقانونی تعمیرات کو گرانے پر عملدرآمد کرتا ہے ،تو دوسری طرف پلاٹ نمبر سی 4جیسی واضح غیرقانونی تعمیر کو بحال کرنے کا حکم دے رہا ہے ۔ جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے سوسائٹی کے دیگر رہائشیوں نے اس فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر پلاٹ نمبر سی 4کی تعمیر غیرقانونی تھی، تو اس کی بحالی کا بھی کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر سی 4 کی ازسرنو تعمیر کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے ، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ابتدائی غیرقانونی تعمیر کے لیے کیا کارروائی ہوگی۔یہ صورت حال ایک اہم سوال کھڑا کرتی ہے ،کیا غیرقانونی عمل کی بنیاد پر کھڑی کی گئی عمارت کی بحالی واقعی انصاف ہے ، یا محض قانونی نظام کو کمزور کرنے کی ایک کوشش؟پلاٹ نمبر سی 4کا معاملہ دراصل اس بات کا امتحان ہے کہ آیا ہمارا قانونی نظام واقعی انصاف فراہم کرتا ہے یا صرف طاقتور کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی ازسرنو تعمیر پلاٹ نمبر سی کرتا ہے کا حکم
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔